ٹکراؤ سے اعترافِ حقیقت تک
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری خبر کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا خفیہ رہائشی کمپاؤنڈ واقع تھا۔ 2 مئی 2011 کو امریکہ نے ایک ٹارگیٹڈ اٹیک (targeted attack) کے ذریعے وہاں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا۔ اب خبر ہے کہ خود پاکستانی حکومت نے اسامہ بن لادن کے اس رہائشی کمپاؤنڈ کو 25 فروری 2012 کورات کے اندھیرے میں ڈھادیا۔ اُس کا ملبہ وہاں سے دور پھینک دیا ہے۔ اس واقعے کی تصویر ٹائمس آف انڈیا (27 فروری 2012) کے صفحہ 18 پر شائع ہوئی ہے۔ ان دونوں خبروں کا خلاصہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ کشمیر میں جہاد کے نام سے جو متشددانہ جدوجہد شروع کی گئی تھی، وہ اپنے فطری انجام کو پہنچ کر ختم ہوگئی ہے، مذکورہ خبر میں ”وقتی طور پر“ (for the time being) کا لفظ محض ڈپلومیٹک ہے۔ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے، اُس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان نے اب ہمیشہ کے لیے اس بے نتیجہ اشو کو ترک کر دیا ہے، یہاں تک کہ اب اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں متشددانہ جدوجہد کی علامتوں تک کو مٹا دیا جائے ۔ اس کی ایک مثال پاکستان میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی مسماری ہے۔ کشمیر کی نام نہاد جنگ، کشمیریوں کی اپنی آواز نہ تھی، وہ مکمل طور پر پاکستان کی برآمد کردہ جنگ (exported war) تھی۔ پاکستان نے اب حالات کی مجبوری کے تحت اُس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں اب کشمیر کی نام نہاد جنگ کو جاری رکھنے کا کوئی جواز ہے اور نہ کوئی امکان۔ اب اہل کشمیر کے لیے متعدد انتخابات (options) نہیں رہے۔ اب اُن کے لیے ایک ہی ممکن انتخاب ہے، یہ کہ وہ ہتھیار اور ہتھیار کی سیاست دونوں کا مکمل خاتمہ کر دیں، اور پُر امن جدوجہد کے ذریعے اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ اجتماعی زندگی میں اقدام کی دو صورتیں ہوتی ہیں بی ایک، یہ صورت کہ وہ اپنے مطلوب انجام تک پہنچے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے انجام کے اعتبار سے، کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہو، یعنی الٹا نتیجہ برآمد کرنے والا ۔ پاکستان کی طرف سے چھیڑی ہوئی کشمیری جنگ کا یہی دوسرا انجام ہوا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے بہت زیادہ کھویا، لیکن وہ اپنے مطلوب کو نہ پاسکا۔ پاکستان کے لیے یہ ایک حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے کہ وہ اس تباہ کُن جنگ سے اپنے آپ کو الگ کر رہا ہے، مگر اہل پاکستان کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ صحیح فکر کا ہے، یعنی منفی سوچ کو چھوڑ کر مثبت سوچ کو اختیار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader