صبح کشمیر
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کھلے طور پر یہ اعلان کرے کہ کشمیر کی جنگ چھیڑنا ہماری ایک مہلک غلطی تھی۔ غلطی کے کھلے اعلان کے بغیر پاکستان کو اس کا کوئی حقیقی فائدہ ملنے والا نہیں۔ غلطی کے اعلان کا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان میں ایک نئی مثبت سوچ (positive thinking) کا آغاز ہو جائے گا۔ پاکستان کے لوگ اس معاملے میں اپنی منفی نفسیات کی بنا پر غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا شکار ہو گئے۔ اس طرح کا اعلان اُن کو ایک نئی رہنمائی دے گا۔ وہ مثبت سوچ میں جینے لگیں گے۔ اُن کی قومی پالیسی جواب تک غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر پر کھڑی ہوئی تھی، وہ حقیقت پسندانہ طرزِ فکر پر قائم ہو جائے گی۔ یہ واقعہ پاکستان اور اس کے حلیفوں کے لیے بلاشبہ ایک انقلابی واقعہ ہوگا۔ لیڈروں کا دہرا کردار اسامہ بن لادن کا عمومی تشخص یہ ہے کہ وہ مغرب کے سخت دشمن تھے اور جہاد کے نام پر مغرب کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے سب سے بڑے حامی تھے۔ 3 مئی 2011 کو پاکستان (ایبٹ آباد) میں وہ ہلاک ہو گئے۔ یہ ان کا کردار بحیثیت ایک لیڈر تھا۔ باپ کی حیثیت سے اُن کا کردار اس سے بالکل مختلف تھا۔ اسامہ بن لادن کے برادر نسبتی (brother-in-law) زکریا (Zakaria) کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں سنڈے ٹائمس (لندن) کے حوالے سے چھپا ہے۔ اس انٹرویو میں انھوں نے بتایا کلا اسامہ بن لادن نے اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں سے کہا تھا کہ تم لوگ یورپ اور امریکا جاؤ، وہاں اچھی تعلیم حاصل کرو، اور اچھی زندگی گزارو۔ تم کو تعلیم حاصل کرنا ہے، امن کے ساتھ رہنا ہے۔ تم وہ نہ کرو جو میں کر رہا ہوں یا جو میں نے کیا: He told his own children and grand children, ‘Go to Europe and America and get a good education, and live a good life. You have to study, live in peace and don’t do what I am doing or what I have done.)The Times of India, New Delhi, February 14, 2012, p. 20( یہ صرف ایک شخص کی بات نہیں، یہی اس معاملے میں موجودہ زمانے کے تمام مسلم لیڈروں کا حال ہے۔ وہ دوسروں کو مغرب سے نفرت کرنا سکھاتے ہیں، وہ قوم کے بچوں کو جہاد کے نام پر تشدد کے راستے پر ڈالتے ہیں، مگر خود اپنے بچوں کے لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ جدید تعلیم حاصل کریں اور مغربی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader