Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکوں میں آباد ہو کر وہاں پر امن زندگی گزاریں۔ ایسے لیڈروں کو نصیحت کرنا بے کار ہے، کیوں کہ وہ خود اپنی روش کبھی نہیں بدلیں گے، البتہ جو لوگ نادانی میں اُن لیڈروں کا ساتھ دیتے ہیں، اُن کو چاہئے کہ وہ ہوش مندی کا طریقہ اختیار کریں۔ وہ ایسے لیڈروں کی جذباتی باتوں کو ہرگز نہ سنیں۔ وہ خود اپنی عقل سے کام لیں اور اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لئے پر امن تعمیر کا طریقہ اختیار کریں۔ امن اور ترقی فروری 2012 میں اسلام آباد (پاکستان) کے ایک معروف عالم انڈیا آئے۔ انھوں نے انڈیا کے مختلف شہروں کا سفر کیا۔ ان سفروں کے دوران اُن کو یہ موقع ملا کہ وہ انڈیا کے مسلمانوں کے حالات قریب سے دیکھ سکیں۔ دہلی میں 7 فروری 2012 کو اُن سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے تعجب کے انداز میں کہا کہ بی انڈیا میں بہت زیادہ امن پایا جاتا ہے، اور انڈیا کے مسلمان کافی ترقی کر رہے ہیں۔ مذکورہ عالم کے لیے یہ بات خلاف توقع تھی، کیوں کہ پاکستانی میڈیا کے ذریعے انھوں نے یہ سمجھا تھا کہ انڈیا کے مسلمان ہر اعتبار سے تباہی کا شکار ہیں، انڈیا کے مسلمانوں کو نہ آزادی حاصل ہے اور نہ وہ یہاں ترقی کر سکتے ہیں، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ مسلمانوں کا علاحدہ بلاک بنایا جائے۔ یا نظام مصطفی کے نام پر ہنگامہ خیز تحریکیں چلائی جائیں۔ اس قسم کی تحریکیں ترقی کے لیے بالکل غیر متعلق ہیں۔ ترقی کے لیے صرف دو چیزوں کی ضرورت ہے! امن اور آزادی۔ یہ دونوں چیزیں انڈیا میں پوری طرح موجود ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جس نے انڈیا کے مسلمانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ یہاں ترقی کر سکیں۔ ترقی ہمیشہ معتدل حالات میں ہوتی ہے۔ اسی معتدل حالت کو امن کہا جاتا ہے۔ امن کے حصول کا راز ایک لفظ میں، سٹیٹس کو ازم (statusquoism) ہے۔ جو لوگ ترقی چاہتے ہیں، اُن کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ نام نہاد انقلابی تحریکوں کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ وہ موجود صورتِ حال (statusquo) کو علی حالہ مان لیں۔ وہ موجود امکانات کو پر امن طور پر استعمال کریں اور بقیہ تمام چیزوں کو مستقبل کے خانے میں ڈال دیں۔ اسی تعمیری طریقے کا نام دانش مندانہ منصوبہ بندی ہے۔ اس دنیا میں کوئی نتیجہ خیز کام صرف دانش مندانہ منصوبہ کے ذریعے انجام پاتا ہے، نہ کہ جذباتی ہنگامہ آرائی کے ذریعے ۔ جذباتی ہنگامہ آرائی صرف نقصان میں اضافہ کرتی ہے، وہ کسی مفید نتیجے تک پہنچنے والی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page