تمہید
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہید موجودہ زمانے میں عام طور پر کسی کتاب کی تالیف کے دو مقصد سمجھے جاتے ہیں: ’’ناظرین کے لیے سامان تفریح بہم پہنچانا۔ یا ان کی معلومات میں اضافہ کرنا۔‘‘ مگر اس فہرست میں ایک اہم ترین چیز چھوٹ گئی ہے ۔ اور وہ ہے ’’حقیقت کا مطالعہ کرنا۔‘‘ یہ کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے، وہ اسی آخری مقصد کے تحت مرتب کی گئی ہے۔ اگلے صفحات میں آپ جو کچھ پڑھیں گے، اس کا مقصد محض کسی تعبیر کی غلطی کو واضح کرنا نہیں ہے بلکہ دین کی صحیح تعبیر پیش کرنا ہے۔ صحیح تعبیر پیش کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کو مجرد شکل میں پیش کیا جائے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ مروجہ تعبیر کی نسبت سے اس کو واضح کیا جائے۔ خالص علمی نقطۂ نظر سے پہلی صورت بھی کافی ہے۔ مگر جہاں تک عملی اور افادی پہلو کا تعلق ہے، دوسری صورت ہی اس کے لیے موزوں ترین ہے۔ اور میں نے اپنے پیش نظر مقصد کے تحت اسی دوسری صورت کو اس کتاب میں اختیار کیا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ اگر واقعی کسی کے لیے حقیقت کا مطالعہ بن جائے۔ اور دین کے صحیح فہم تک اسے پہنچادے، تو یہ مؤلف کی انتہائی خوش قسمتی ہوگی۔ اور میں اسی کے لیے اللہ سے دعا کرتا ہوں۔ مگر زیرِ بحث تعبیر کی حیثیت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ ایک مخصوص حلقہ میں رائج ہو گئی ہے اور ہمیں اس کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ ایک قسم کا چیلنج ہے اور موجودہ کتاب ایک لحاظ سے اس چیلنج کا جواب۔ اس تعبیر کے تحت پیدا شدہ لٹریچر زبان حال سے ، اور اس کی بعض عبارتیں (مثلاً قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں کا دیباچہ) زبان قال سے اس بات کا اعلان ہے کہ اسلاف نے دین کو صحیح شکل میں نہیں سمجھا۔ اس تعبیر کی نظر سے دیکھیے تو چودہ سو برس کی ساری تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader