دیباچہ طبع ثانی
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ تعبیر کی غلطی میں جس فکر کو زیر بحث لایا گیا ہے، وہ علمی میدان میں سراسر شکست کھا چکا ہے۔ مگر اس کے افراد کی عصبیت ان کو اعتراف پر آمادہ نہیں ہونے دیتی۔ اپنی شکست خوردہ ذہنیت کا مظاہرہ اب وہ اس طرح کر رہے ہیں کہ وہ نہایت منظم طور پر ارقام الحروف کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، "تنقید" کے میدان میں اپنے کو عاجز پا کروہ "تنقیص" کے میدان میں اتر آئے ہیں۔ کاش انھیں معلوم ہوتا کہ اس طرح وہ اپنے کیس کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ وہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ نہ صرف علمی دیوالیہ پن کا شکار ہیں، بلکہ وہ اخلاقی دیوالیہ پن میں بھی مبتلا ہو چکے ہیں۔ قرآن مجید کی ایک آیت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (26:41)۔ اور کفر کرنے والوں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں عیب لگاؤ شاید تم غالب ہو جاؤ۔ اس آیت میں وَالْغَوْا فِيهِ کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عیبوہ سے کی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ (98)۔ یعنی قرآن اور صاحب قرآن پر عیب لگاؤ۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی اس تشریح کی روشنی میں دیکھا جائے تو کسی کے خلاف اظہار خیال کے دو طریقے ہیں۔ ایک تنقید، اور دوسرا تعییب۔ تنقید کا مطلب ہے بینات (واضح دلائل) کی بنیاد پر اس کو رد کرنا، اور تعییب کا مطلب ہے اس پر عیب لگانا، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنانا۔ تنقید کا طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ دلیل و برہان کی روشنی میں کسی شخص کے افکار کا تجزیہ کرے۔ مگر تعییب کا طریقہ سراسر غیر اسلامی طریقہ ہے۔ یہ قرآن کے نزدیک اہل کفر کی روش ہے۔ جو لوگ کسی شخص کے خلاف تعییب کی مہم چلائیں انھیں سوچنا چاہیے کہ اپنی اس روش کے ذریعے وہ کس کے ساتھ اپنے آپ کو بریکٹ کر رہے ہیں۔ وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader