Urdu book · تعبیر کی غلطی

تمہید

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

تحریک نہیں ملتی جس نے اس کے مطابق مکمل معنوں میں تجدید و احیائے دین کا کام کیا۔ اگر چہ اس حلقہ کے کچھ ذہین افراد نے اسلامی تاریخ کے بعض واقعات کو اس حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ تمام کوششیں قطعی طور پر تاریخ سازی ہیں، نہ کہ تاریخ نگاری۔ اس طرح یہ تعبیر گویا اپنے پورے وجود کے ساتھ اسلاف کے تصور دین کے بارے میں ایک قسم کی بے اعتمادی کا اظہار ہے۔ اور اس بات کا اعلان ہے کہ انہوں نے ٹھیک ٹھیک اس طرح دین کی خدمت کرنے کی کوشش نہیں کی جیسی کہ حقیقتاً کی جانی چاہیے۔ مجھے یہ ماننے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہمارے علما نے بعض آیات یا بعض حدیثوں کا مطلب صحیح طور پر نہ سمجھا ہو، دوسرے لفظوں میں، اجزائے دین میں سے کسی جزء کی نوعیت متعین کرنے میں وہ غلطی کر گئے ہوں۔ اسی طرح ان کے بارے میں عملی کوتاہیوں اور خامیوں کے امکان کا اقرار بھی ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بات قطعاُ نا قابل تسلیم ہے کہ حقیقت دین کو سمجھنے میں انہوں نے غلطی کی۔ یا دین کی خدمت کا صحیح طریقہ اختیار کرنے میں وہ ناکام رہے۔ میرے لیے یہ احساس ساری دنیا کی نعمتوں سے بڑھ کر لذید ہے کہ میری یہ کتاب اسلاف کے اوپر وارد ہونے والے اعتراض کی مدافعت ہے۔ میں اپنے عاجز اور ناتواں وجود کے ساتھ ان کی طرف سے دفاع کرنے کے لیے اٹھا ہوں۔ یہاں مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے جو 7 مارچ 1963ء کو پیش آیا۔ ان دنوں میں ”قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں“ کے استدلالات کی تحقیق کے سلسلے میں بے حد مشغول تھا۔ دار المصنفین اعظم گڑھ کے کتب خانہ کا وسطی کمرہ ہے، چاروں طرف تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، علم کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ الماریاں دیواروں سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اور تمام لوگ دوپہر کے وقفہ میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جا چکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے جس میں ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعہ کی وجہ سے اس وقت میری کیفیت یہ ہو چکی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page