Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلے اختیار فرمایا تھا، اور جہاں تک مجھے معلوم ہے، مولا نا جلیل احسن صاحب وغیرہ سے بھی آپ کی خط و کتابت کا سلسلہ ابھی جاری ہی ہے۔ پھر ذرا صبر سے کام لے کر اس کے نتیجے کا کیوں نہ انتظار فرمالیں ۔ علیحدگی کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے ۔ اور کسی علیحدہ ہونے والے کو خواہ مخواہ روکنے کی ہرگز ہماری خواہش نہیں ہے۔ لیکن کسی بھی رکن جماعت کی علیحدگی ظاہر ہے ہمارے لیے کوئی خوش آئند بات نہیں ہے اور آپ کی علیحدگی تو خصوصیت کے ساتھ ہمارے لیے ایک رنجیدہ واقعہ ہوگا اور میں تو ذاتی طور سے بھی اپنے لیے اس کو نہایت تکلیف دہ حادثہ سمجھوں گا۔ اس لیے جی چاہتا ہے کہ آپ کو مطمئن کرنے کے لیے ہم آخری حد تک اپنی کوششیں جاری رکھیں اگر خدا خواستہ اس کے بعد بھی اتفاق کی کوئی راہ پیدا نہ ہو سکے تو پھر مجبوری ہے۔ رہی یہ بات کہ ہمارے اور آپ کے درمیان اب خلوص کی وہ فضا باقی نہیں رہ گئی ہے جو کسی مشترک مقصد کے لیے مخلصانہ تعاون کے لیے درکار ہے تو اول تو میں نہیں سمجھ سکا کہ گفتگو کے موجودہ مرحلہ میں آپ نے یہ بات کیوں لکھی ہے۔ تعاون کے ہونے یا نہ ہونے کا ابھی سوال ہی کیا ہے۔ آپ اس وقت تو بہر حال رکن جماعت ہی ہیں۔ اور ہمارے اور آپ کے درمیان جو کچھ گفتگو اور خط و کتابت ہو رہی ہے وہ کسی تعاون کے سوال کے بجائے اس مسئلہ سے متعلق ہے کہ آپ آئندہ جماعت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں، اور رکنیت کے مسئلہ کا مخلصانہ تعاون کی فضا سے کوئی براہ راست تعلق میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے ۔ اس لیے میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوں کہ اس کی بنا پر آپ نے اپنے سابقہ فیصلہ کے خلاف دفعتاً اپنی رکنیت ختم کر دینے کا فیصلہ کس طرح فرما لیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مجھے اس بات پر انتہائی حیرت ہے کہ آپ نے اس مخلصانہ فضا کے باقی نہ رہنے پر میرے اس خط سے استدلال فرمایا ہے جو میں نے مولانا صدر الدین صاحب کو آپ کے تبصرہ کے ذیل میں لکھا تھا ۔ وہ خط میں نے بہت رواروی میں کھڑے کھڑے لکھا تھا۔ کیوں کہ ایک صاحب اسی وقت رام پور جا رہے تھے ۔ لیکن آپ کے خط میں اسے غور سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page