Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر وہ کہہ دیں کہ ان کے نزدیک اب مجھ سے ”بات کرنے کی گنجائش“ نہیں ہے، تو آپ مجھے یہ لکھ دیں گے کہ آپ کو ”جو کچھ کرنا تھا کر چکے“۔ اب میں اپنے لیے فیصلہ چاہوں کرلوں۔ دوسری طرف موجودہ خط کے مندرجہ بالا اقتباس میں آپ لکھتے ہیں کہ آپ نے طے کر رکھا تھا کہ صدر الدین صاحب کی کوششوں کی ناکامی کے بعد آپ مجھے میرے حوالے نہیں کر دیں گے بلکہ اس کے بعد آخری طور پر آپ خود بھی ضرور اس موضوع پر مجھ سے بات چیت کریں گے۔ بہر حال ان سب باتوں کے باوجود، جہاں تک میرا تعلق ہے، میں ہر آن آپ سے گفتگو کرنے کے لیے تیار ہوں۔ بلکہ اس کا متمنی ہوں۔ جلیل احسن صاحب جس طرح مجھے ”پڑھانا لکھانا“ چاہتے ہیں وہ تو میرے نزدیک بے فائدہ ہے۔ اس دوران میں ان کے دوسو لنا مے آۓ ہیں۔ دونوں کا حال یہ ہے کہ اس میں بالکل مجرد قسم کے سوالات ہیں۔ جیسے امتحان کے پرچے میں طالب علموں سے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بالکل واضح نہیں کیا کہ ان سوالات کا اصل مسئلے سے کیا تعلق ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی غیر متعلق بحث میں دلچسپی نہیں لے سکتا۔ مگر اس طرز کو چھوڑ کر اصل موضوع کے بارے میں جو بھی مجھ سے گفتگو کرے میں ان شاء اللہ ضرور اس سے گفتگو کروں گا۔ لیکن کسی کے اندر خود ہی آمادگی نہ ہو تو اس کو پکڑ کر زبردستی تو اگلوایا نہیں جا سکتا۔ خادم وحید الدین ❀❀❀ دہلی، 27 اکتوبر 1962ء برادر عزیز السلام علیکم گرامی نامہ ملا۔ میں نے جو طویل خط آپ کو لکھا تھا اس کی ایک خاص غرض یہ تھی کہ میرے جن دو فقڑوں کے غلط مفہوم کی بنا پر آپ کو تکلیف پہنچی ہے ان کا اصل مدعا آپ پر واضح کر سکوں تا کہ وہ تکلیف کسی طرح ختم ہو سکے۔ لیکن آپ کے خط سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس مقصد میں کہاں تک کامیاب ہو سکا۔ بظاہر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ میرے پورے بیان ہی کو غلط سمجھ رہے ہیں کیوں کہ آپ کے خیال میں میرے اس خط کی ایک عبارت اس خط کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page