Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

عبارت سے متصادم ہے جو میں نے مولانا صدرالدین صاحب کو لکھا تھا۔ حالانکہ اگر وہ تضاد مان بھی لیا جائے تو اس کا تعلق ایک دوسرے ہی مسئلہ سے ہے۔ اس لیے محض اس کی بنا پر کم از کم ان دونوں فقروں کے بارے میں تو میری وضاحت کو کلیتاً آپ کو رد نہیں کر دینا چاہیے تھا، خیر اگر آپ کا دل اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ البتہ یہ لکھنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جس تضاد کا آپ نے تذکرہ فرمایا ہے وہ واقعہ میں موجود نہیں ہے جس کی مختصر توضیح یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہی ہے کہ مولانا صدرالدین صاحب اس کام کے لیے باضابطہ طور سے متعین کیے گئے تھے کہ وہ آپ کی تحریر کا جواب لکھیں۔ اس لیے ان کی رائے کے مطابق اگر میں آپ کو وہ بات لکھ بھی دیتا جو ان کے نام کے خط میں میں نے بصورت استفہام ان سے دریافت کی تھی تو اس کے معنی صرف اتنے ہی ہوتے کہ آپ سے جو باضابطہ گفتگو ہو رہی تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اس کے ختم ہونے کے لازماً معنی یہ نہیں تھے کہ میں نے اپنے طور سے آخر میں گفتگو کرنے کا جو ارادہ کیا تھا اسے زیر عمل نہ لا سکوں اور نہ اس کا خاتمہ کسی طرح اس کو زیر عمل لانے میں مانع بن سکتا تھا۔ کیوں کہ وہ اس باضابطہ گفتگو کے علاوہ بات تھی اور اس کا موقع بھی اس کے ختم ہونے کے بعد ہی آنے والا تھا اس لیے یہ عین ممکن تھا کہ مولانا صدرالدین صاحب کی رائے معلوم ہونے پر میں اس باضابطہ گفتگو کے ختم ہونے کی اطلاع دینے کے ساتھ ہی یا ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ اس اطلاع کو چند دنوں کے لیے ملتوی کر کے آپ کو گفتگو کی دعوت دیتا۔ بہر حال میری ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، براہ عنایت اس خط کی روشنی میں ان پر دوبارہ غور فرمائیں ان شاء اللہ آپ کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ لیکن اس سلسلے میں ایک اور بات بھی عرض کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اگر بالفرض یہ صحیح بھی ہو کہ میری ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد ہے تو کیا آپ کے لیے یہ ضروری ہی ہے کہ آپ اس تضاد کو لامحالہ غلط بیانی پر محمول کریں اور پھر اس سے اتنے سنگین نتائج برآمد کریں۔ اول تو یہ بات بجائے خود بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک نجی پرزے کو جسے آپ کو پڑھنا بھی نہیں چاہیے تھا۔ اور جو جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ۔ بہت جلدی میں کھڑے کھڑے لکھا گیا تھا۔ اتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس کی بنا پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page