خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑے سے بڑا الزام عائد کرنے میں آپ کو کوئی تکلف نہیں ہے اور دوسرے اس کو اس طرح استعمال کرنے میں آپ کسی حسن ظن سے کام لینے کو گو یا اپنے لیے حرام ہی سمجھتے ہیں ۔ ورنہ آپ آسانی یہ فرض کر لیتے کہ مولانا صدر الدین صاحب کو خط لکھتے وقت ممکن ہے یہ بات میرے ذہن میں مستحضر نہ رہی ہو کہ آپ سے آخر میں بات چیت بھی کرنی ہے۔ یارہی بھی ہو تو آپ کا مضمون پڑھ کر فوری طور سے اس کے خلاف میں نے طے کر لیا ہو۔ لیکن ظاہر ہے اس طرح کی کسی تاویل سے زیادہ سے زیادہ سہو یا رائے بدل ڈالنے ہی کا الزام عائد کر سکتے تھے۔ حالانکہ آپ کی تسکین کے لیے شاید یہ ضروری تھا کہ اس سے آگے کی بات مثلاً غلط بیانی وغیرہ ثابت کریں ۔ بہر حال جہاں تک آپ سے آخری بات چیت کرنے کا سوال ہے میں اب بھی اس کے لیے آمادہ ہوں ۔ لیکن اس سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جن حضرات سے آپ اس سلسلے میں گفتگو اور تبادلہ خیال کر رہے تھے، کیا اب ان سے آپ کو کوئی بات چیت کرنی نہیں ہے ۔ یہ معلوم ہونے پر حسب سہولت میں ان شاء اللہ آپ سے گفتگو کے لیے کوئی موقع نکال سکوں گا۔ اس سے پہلے میں آپ کو اطلاع دے چکا ہوں کہ مولانا صدر الدین صاحب آپ کے تاثرات پر تبصرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی تحریر کا انداز وہ نہ ہو جو پہلے تھا۔ اور مولانا جلیل احسن صاحب کا یہ خیال بھی آپ کو لکھ چکا ہوں کہ انہوں نے آپ سے جو سوالات کیے ہیں وہ قطعاً غیر متعلق نہیں ہیں۔ اسی لیے میں نے آپ کو یہ بھی لکھا تھا کہ اگر یہ بات آپ پر واضح نہ ہو سکی ہو تو اس بارے میں آپ ان سے دریافت کر سکتے ہیں۔ آپ کے خط سے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ نے میری اس درخواست کے بارے میں کیا فیصلہ کیا کہ اپنے خیالات و نظریات کے بارے میں پوری طرح یکسو ہونے تک جماعت سے اپنی علیحدگی کا فیصلہ ملتوی رکھیں ۔ والسّلام ابواللیث 1962 اعظم گڑھ، 8 نومبر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader