خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
محترمی جناب مولانا ابواللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند۔ سلام مسنون آپ کا خط مورخہ 27 اکتوبر ملا۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس خط میں اور اس سے پہلے 19 اکتوبر والے خط میں آپ نے جو انداز اختیار کیا ہے وہ بالکل قانونی اور منطقی قسم کا ہے۔ حالانکہ یہ طریقہ کسی ایسے شخص کے لیے موزوں نہیں ہے جو مسئلہ کو واقعی طور پر حل کرنا چاہتا ہو۔ منطقی طریقہ کا حاصل صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے طور پر یہ سمجھ کر مطمئن ہو جائے کہ اس نے ایک انڈے کو دو انڈا ثابت کر دیا۔ مگر ظاہر ہے کہ اس طرح کے "دلائل" سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ میں دوبارہ واضح طور پر آپ کے سامنے یہ رکھنا چاہتا ہوں کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اصل مسئلہ کی نسبت سے اپنا واضح جواب روانہ فرمائیں۔ مسئلہ کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ مجھ کو جماعت اسلامی سے فکری اختلاف پیدا ہوا۔ میں نے اس سلسلے میں اپنے خیالات واضح طور پر لکھ کر آپ کے حوالے کیے ۔ اس کے بعد آپ کے الفاظ میں میری تحریر "مفصل تبصرہ کرنے کے لیے مولانا صدرالدین صاحب کو باقاعدہ متعین کیا گیا جو جماعت کی نگاہ میں اس کام کے لیے موزوں تر آدمی تھے"۔ یہ تبصرہ میرے سامنے آیا تو اس میں مجھے اپنے خلاف کوئی دلیل نہیں ملی ۔ چنانچہ میں نے 10 اگست کے خط میں آپ کو لکھا کہ اس تبصرہ کو بار بار پڑھنے کے باوجود میرے اصل نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ وہ بہ نفسہ اپنی جگہ باقی ہے۔ اس کے بعد آپ کے حسب ارشاد 19 اگست کو میں نے اس کے متعلق اپنے تاثرات مختصراً قلم بند کر کے آپ کی خدمت میں بھیج دیے ۔ میں اس کے لیے بھی تیار تھا کہ مولانا صدرالدین صاحب کی تحریر کا مفصل تجزیہ کر کے بتاؤں کہ وہ کیوں میرے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اور اس کے بعد صدرالدین صاحب دوبارہ مجھے مطمئن کرنے کی کوشش فرمائیں۔ مگر آپ حضرات مزید افہام وتفہیم کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ آپ لکھتے ہیں کہ " مولانا صدرالدین صاحب کے تاثرات پر تبصرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی تحریر کا انداز وہ نہ ہو جو پہلے تھا"۔ مگر اسی شرط کو میں انکار سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ میرا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader