Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

جو انداز ہے وہ یہی ہے کہ میں نے اپنی تحریر میں کچھ ایسے علمی اسباب پیش کیے ہیں جو میرے لیے ان کی بات تسلیم کرنے میں مانع ہیں۔ ظاہر ہے کہ میں یہ انداز چھوڑ کر بلا دلیل ان کی بات کو قبول نہیں کر سکتا۔ اس لیے نہ کبھی ان کی شرط پوری ہوگی اور نہ وہ کبھی تبصرہ کریں گے۔ اس طرح میرے سوالات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ اور اس کے بجائے میرے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ "مولانا صدر الدین صاحب نے ہر بات کا مکمل جواب دے دیا تھا۔ مگر وہ تو اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔ ایسے آدمی کو کون سمجھا سکتا ہے۔ اور ایسی حالت میں مزید گفتگو کا کیا حاصل ہے۔" مجھے تسلیم ہے کہ میں نے جو مختصر تبصرہ آپ کی خدمت میں روانہ کیا تھا، اس کے سلسلے میں میری بعض غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مگر وہ "غلطی" ایسی ہے کہ مجھے حیرت ہے کہ کہنے والے نے اس کا ذکر ہی کیوں کیا۔ مثلاً آپ کو یاد ہوگا 6 ستمبر 1962ء کو جب آپ رام پور آئے تھے۔ اور ناظم درس گاہ کے کمرے میں میرے مسئلے پر گفتگو ہو رہی تھی۔ اس وقت آپ کے علاوہ صدر الدین صاحب افضل حسین خاں صاحب، عبدالحئی صاحب، عروج قادری صاحب، اور جلال الدین انصر صاحب بھی موجود تھے، میں نے اپنی جوابی تحریر پر تبصرہ کرنے کے لیے اصرار کیا۔ مگر آخر وقت تک آپ یا صدر الدین صاحب اس پر آمادہ نہیں ہوئے۔ البتہ اس موقع پر گفتگو کے دوران صدر الدین صاحب نے ایک جملہ یہ فرمایا۔" آپ نے تو اپنے جواب میں حوالے کی اتنی بڑی غلطی کی ہے کہ..." یہ سن کر میں ڈر گیا۔ میں سمجھا کہ میں نے واقعی کوئی بڑی شدید قسم کی غلطی کر ڈالی ہے۔ مگر پوچھنے کے باوجود صدر الدین صاحب نے اس وقت کچھ نہیں بتایا۔ اور نہ آپ لوگوں نے ان سے یہ کہنے کی ضرورت سمجھی کہ وہ اس کو مجھے بتائیں۔ چند دن بعد میں نے ان کے کمرہ میں ان سے مل کر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ حوالے کی غلطی یہ تھی کہ ان کی تحریر کا ایک ٹکڑا اپنے تبصرہ میں نقل کرتے ہوئے ایک جگہ "اس طرح کی" کا لفظ مجھ سے چھوٹ گیا ہے۔ اول تو اس لفظ کے چھوٹنے سے اصل مدعا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ اس کے چھوٹنے کی ذمہ داری مجھ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page