خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادہ خود صاحب تحریر کے اوپر ہے۔ کیوں کہ اس لفظ کو لکھنے کے بعد انہوں نے دوموٹی لکیروں سے اسے کاٹ دیا تھا۔ اور اس کے بعد پھر اس پر بار یک قلم سے صحیح کا دونشان ( ۲۴ ) بنادیا تھا۔ اتفاق سے میری نظر اس نشان پر نہیں پڑی اور وہ نقل کرنے میں رہ گیا۔ یہ تنقیداتنی بے وزن ہے کہ اس کو سننے کے بعد میں نے اپنے جی میں کہا ” کاش صدرالدین صاحب نے اس کا ذکر نہ کیا ہوتا۔ کیوں کہ اس کا ذکر نہ کرنا ان کے حق میں زیادہ اچھا تھا۔“ اس کے بعد مولانا جلیل احسن صاحب کو لیجیے جو آپ کے الفاظ میں دوسرے شخص ہیں جن سے ” خواہش کی گئی تھی کہ وہ بھی میرے خیالات سمجھنے اور جماعت کا نقطہ نظر سمجھانے کے لیے خط و کتابت کریں“، مگر انہوں نے اس مقصد کے لیے ایسا عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا جس کو کسی اور پہلو سے خواہ جو بھی اہمیت حاصل ہو۔ مگر اسے کسی بھی طرح ” جماعت اسلامی کا نقطہ نظر سمجھانے “ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ پچھلے نو مہینے سے میرا مسئلہ ان کے سامنے ہے۔ مگر آج تک اصل مسئلہ کے بارے میں ایک لفظ انہوں نے نہیں لکھا۔ البتہ دوسری طرح طرح کی باتیں کرتے رہے جس میں سے ایک خاص بات ان کی یہ ” شرط “ تھی کہ وہ میرے ” طویل مقالہ “ کو پڑھ کر سوالات کریں گے، توضیح مدعا کے طالب ہوں گے دلائل پر گفتگو کریں گے۔ میں نے ان کی یہ شرط مان لی۔ مگر جب ان کا سوال نامہ آیا تو میں نے دیکھا کہ اس میں اصل تحریر کے بارے میں کوئی ” سوال “ نہیں ہے، میرے کسی مدعا کی ” وضاحت “ دریافت نہیں کی گئی ہے، اور نہ میرے دلائل پر کوئی ” گفتگو “ ہے۔ اس کے برعکس، اس میں مجرد قسم کے کچھ سوالات تھے جن کے بارے میں قطعاً نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کا زیر بحث مسئلہ سے کیا تعلق ہے۔ اس کے بعد دوسرا سوال نامہ آیا تو وہ بھی بعینہ اسی قسم کا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر جلیل احسن صاحب سے میری خط و کتابت نہ چل رہی ہوتی، اور ان کے یہ سوال نامے یکا یک مجھے ملتے تو میں انھیں واپس بھیج دیتا۔ اور ان کو لکھتا کہ یہ شاید کسی عربی درس گاہ کے امتحان کا پرچہ ہے جو غلطی سے آپ نے میرے نام بھیج دیا ہے۔ میں نے اس طریق مراسلت کے نامناسب ہونے کا ذکر کر کیا تو ان کا یہ جواب آیا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader