تمہید
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیا ہو۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں۔ مگر اٹھا تو کمزوری کی وجہ سے چکر آ گیا۔ اور سمت بھول گئی۔ یہ میرا لت کا جانا پہچانا کمرہ ہے۔ مگر تھوڑی دیر تک میں وہاں اس طرح کھڑا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ متعلقہ الماری فلاں سمت میں ہے۔ اس واقعہ کے کچھ دیر بعد جب میں نے اپنے حواس کو یکجا کیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میں زیر بحث نظریے کے بارے میں اسلاف امت سے تبادلہ خیال کرنے کے لیے بہت دور تک چلا گیا تھا۔ اور چلتے چلتے تھک گیا۔ مگر اس کمزوری اور تکان کے باوجود مجھے یہ سوچ کر خوشی ہو رہی تھی کہ مجھے ان کی رائے معلوم ہوگئی ہے اور اب میں اس پوزیشن میں ہوں کہ ان کی طرف سے پورے اعتماد کے ساتھ زیر بحث تصور کی تردید کر سکوں۔ مجھے ایسا نظر آیا گویا یہ تمام الماریاں اور ان میں بھری ہوئی کتابیں اسلاف کی روحیں ہیں جو میرے پیچھے کھڑی ہیں اور میں اپنے کمزور ہاتھوں اور کانپتے ہوئے قدموں کے ساتھ ان کی طرف سے مدافعت کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ یہ سوچ کر اتنی خوشی ہوئی کہ تکان اور بھوک پیاس سب بھول گئی اور میں دوبارہ مغرب تک کے لیے اپنے مطالعہ میں مشغول ہو گیا۔ اگلے صفحات میں زیر بحث تعبیر کا جو تجزیہ آ رہا ہے اس سے پہلے مجھے چند باتیں عرض کرنی ہیں۔ جماعت کی علاحدگی سے پہلے بعض لوگوں نے مجھے یہ مشورہ دیا تھا کہ میں اس قسم کی اختلافی بحث نہ چھیڑوں، بلکہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے دین کا جو تقاضا میں سمجھا ہوں اس کو مثبت طور پر لوگوں کے سامنے پیش کروں۔ یہ مشورہ جس مخلصانہ جذبے کے تحت دیا گیا ہے، میں اس کی قدر کرتا ہوں۔ اگر میں اس مشورہ کو قبول کر لیتا تو میرے کام کی نوعیت دوسری ہوتی۔ بلکہ اس انداز میں کام کرنے کے لیے مجھے جماعت سے الگ ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی، میرے لیے پورا موقع تھا کہ جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader