Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

”میں اپنے طریق مراسلت پر مصر ہوں ۔ اور وہ طریقہ جو دوسروں نے اختیار کیا، وہ آپ کے لیے مضر اور ان کے لیے لا حاصل ہے۔ میں، آپ جانتے ہیں کہ میں ”پڑھانے لکھانے“ ہی کا کام کرتا ہوں۔ یہ پڑھانے لکھانے کا انداز کیوں کر چھوڑوں ۔ اس سے آپ کے فکرفیع اور علم کبیر کے احساس کو چوٹ لگتی ہے، تو افسوس ہے۔ زیر بحث مسئلہ پر غور کرنے اور کرانے کا، بالخصوص آپ کے لیے میرے پاس یہی راستہ ہے جس کو آپ نے پڑھانے لکھانے کا نام دیا ہے۔“ جلیل احسن صاحب کے اس جواب میں طنز و تعریض کے سوا اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اپنے جس طریق مراسلت پر انھیں اصرار ہے، وہ ”جماعت اسلامی کا نقطہ نظر سمجھانے کے لیے“ کیوں موزوں ہے۔ موٹی سی بات ہے کہ جب ایک شخص کہتا ہے کہ جماعت اسلامی کا فکر صحیح نہیں ہے اور اس کے لیے کچھ متعین دلائل پیش کرتا ہے تو آپ کو اس کے دعوے اور اس کے دلائل کے بارے میں سوالات کرنے چاہئیں۔ اس کے بجائے اگر کسی تمہیید و تشریح کے بغیر آپ اس قسم کے الفاظ بولنا شروع کر دیں اچھا بتاؤ فلاں آیت میں ویعلم کا عطف کس پر ہے“ اور فلاں آیت میں ذالک کا مشارٌ الیہ کیا ہے“ تو یہی کہا جائے گا کہ یہ الّل ٹپ قسم کے سوالات ہیں۔ اور سوال کی حد تک ان کا اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا جلیل احسن صاحب کے دونوں سوالنامہ اسی قسم کے سوالات پر مشتمل ہیں۔ آپ جب بھی چاہیں انھیں دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک ذاتی طور پر آپ کا تعلق ہے ۔ آپ سے میری شکایتیں حسب ذیل ہیں: میرا شدید احساس ہے کہ اس بحث میں آپ نے حق طلبی اور حق پسندی کا ثبوت نہیں دیا۔ بلکہ اس کو اس طرح دیکھا گو یا یہ محض میرا جواب دینے یا ایک اعتراض کو دفع کرنے کا مسئلہ ہے۔ اگر صورت حال یہ ہوتی ہے کہ جو سوالات میں نے چھیڑے ہیں، ان کا آپ کے پاس تشفی بخش جواب ہوتا اور مطالعہ اور غور وفکر کے نتیجے میں علی وجہ البصیرت آپ پر یہ واضح ہو گیا ہوتا کہ میں غلطی پر ہوں، تو بے شک ایسا رو یہ آپ کے لیے صحیح ہو سکتا تھا۔ مگر خود آپ کے اعتراف کے مطابق صورت حال یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page