Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ہے۔ کیوں کہ جب بھی میں نے ان مسائل پر آپ سے رائے دینے کی درخواست کی تو ہمیشہ آپ نے یہی عذر کیا کہ "اس پر رائے زنی کے لیے جس تیاری کی ضرورت ہے وہ ابھی میں نہیں کر سکا ہوں اور موجودہ مصروفیتوں میں میرے لیے اس کا موقع بھی نہیں ہے۔“ ایسی حالت میں آپ کے لیے وہ رویہ کسی طرح درست نہیں ہوسکتا جو میری تحریر دیکھنے کے بعد آپ نے اختیار کیا۔ صدرالدین صاحب کی تحریر پر جو تبصرہ میں نے 19 اگست کو آپ کی خدمت میں روانہ کیا تھا، مجھے یقین ہے کہ اس میں ایسی باتیں تھیں جن کے متعلق آپ کو ٹھہر کر سوچنا چاہیے تھا۔ اور صدرالدین صاحب سے پوچھنا چاہیے تھا کہ اس کا ان کے پاس کیا جواب ہے۔ مگر میری تحریر کے بارے میں آپ صدرالدین صاحب کو جو خط لکھتے ہیں اس کا انداز ایسا ہے گویا کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔ اور مولانا صدرالدین صاحب کے الفاظ اب بھی آپ کے نزدیک اسی طرح ثابت شدہ ہیں جیسے وہ آپ کے نزدیک پہلے تھے۔ مجھے آپ کے خط مورخہ 28 اگست (بنام صدرالدین صاحب) پر سب سے زیادہ حیرت اسی پہلو سے ہے۔ یہ وہ پہلا خط ہے جو آپ نے میرا جواب دیکھنے کے بعد مولاناصدرالدین صاحب کو لکھا تھا۔ مگر حیرت ہے کہ اس میں صدرالدین صاحب کی تحریر کے بارے میں میری بعض نہایت واضح قسم کی سنگین گرفتوں تک کا کوئی ذکر نہیں۔ مثلاً اقيموا الدين کی آیت کے سلسلے میں جلالین کے دو شارحین کی طرف غلط انتساب۔ ایک ایسا شخص جس کے اندر تلاش حق کا جذبہ ہو، اس موقع پر فوراً اس کے سامنے یہ سوال آئے گا کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ ایک آیت جس کے اوپر جماعت اسلامی کے ہمہ گیر انقلابی نصب العین کی عمارت کھڑی کی گئی ہے، اس کے متعلق ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ آیت کے مخصوص الفاظ کی بنا پر علمائے تفسیر نے بالاتفاق اس میں "الدین“ سے ہمہ گیر شریعت کا مفہوم مراد نہیں لیا ہے۔ بلکہ صرف دین کی بنیادی تعلیمات مراد لیتے ہیں۔ اس لیے اس آیت سے کوئی ہمہ گیر انقلابی نصب العین اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے جواب میں جماعت کا ایک لائق ترین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page