خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
عالم کئی مہینے کی تلاش و جستجو کے بعد دو حوالے فراہم کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ مدعی کا یہ کہنا غلط ہے۔ کیوں کہ بعض ایسے مفسر موجود ہیں جن کے نزدیک "اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں۔ اور پورے کے پورے داخل ہیں۔" اب مدعی دوبارہ آپ کے سامنے آتا ہے اور کہتا ہے کہ ان علما کی طرف یہ انتساب بالکل غلط ہے۔ وہ دونوں مفسرین کے مکمل اقتباسات آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ جس سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے جو بات الَّذِی أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ کے فقرے سے متعلق کہی تھی، اس کو بالکل غلط طور پر اقيضوا الدین کے فقرے کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ حالانکہ یہ دوسرا فقرہ جو اصلاً زیر بحث ہے، اس کے متعلق انہوں نے صراحت کی ہے کہ یہاں عموم مراد نہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایسی کھلی ہوئی گرفتوں کے باوجود آپ کا خاموش رہنا اور صدرالدین صاحب کو اس طرح خط لکھنا گویا کہ ان کے دعاوی اور استدلال میں آپ کے نزدیک اب بھی کوئی فرق نہیں پڑا، کیسے صحیح ہے۔ یہ طرز عمل تو ظاہر کرتا ہے گو یا اصل مسئلہ تحقیق حق کا نہیں ہے، بلکہ صرف میری تردید کا ہے۔ آپ کو دلائل اور واقعات پر غور کرنا نہیں ہے بلکہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ ایک تنقید جو سامنے آگئی ہے اس سے کس طرح نمٹا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جو طریقہ اختیار کیا اس میں حق کا ساتھ دینے کے بجائے جماعت اسلامی کی وکالت کا سا انداز پیدا ہو گیا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں اس کی کھلی ہوئی مثال یہ ہے کہ مولانا صدر الدین صاحب نے قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ والی آیت میں تیسر القرآن کے اندر وہی بات لکھی ہے جو میں کہتا ہوں مگر میری تحریر کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مخالف موقف اختیار کر لیا، کیوں کہ جماعت اسلامی کی بات کو ثابت کرنے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ میری یہ تنقید اگرچہ مولاناسدر الدین صاحب پر ہے۔ مگر ان کی تحریر چونکہ آپ کے اتفاق کے ساتھ خود آپ کی طرف سے مجھ سے دی گئی تھی، اس لیے ان کی ذمہ داری میں خود آپ بھی اس وقت تک شریک ہیں جب تک آپ اس سے برأت ظاہر نہ کردیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader