خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ سے دوسری شکایت یہ ہے کہ میرے بارے میں آپ کی طرف سے خیر خواہی کا رویہ ظاہر نہیں ہوا۔ مولانا صدر الدین صاحب کے نام آپ کا خط مورخہ 28 اگست اس کی واضح مثال ہے، جو آپ کی تو جیہات کے باوجود ابھی تک مجھے سخت قابل اعتراض معلوم ہوتا ہے۔ اور جس کا خود آپ نے بالواسطہ طور پر یہ کہہ کر اعتراف کر لیا ہے کہ ”یہ ایک نجی پرزہ تھا جسے آپ کو پڑھنا بھی نہیں چاہیے تھا۔“ آپ کے خط مورخہ 27 اکتوبر کا یہ جملہ مجھ پر اعتراض سے زیادہ آپ کی اس نفسیاتی کیفیت کا اظہار ہے کہ آپ اپنے اس خط کو ایک ایسی تحریر سمجھ رہے ہیں جس کا میری نظر سے گزرنا آپ کے نزدیک مناسب نہیں تھا۔ ایک نفسیات داں آپ کے اس جملے کو اس کے سوا کسی اور چیز پر محمول نہیں کر سکتا۔ اوپر میں نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔ 1۔ مجھ کو جماعت اسلامی سے جو فکری اختلاف پیدا ہوا ہے۔ اس کے بارے میں آپ حضرات مجھے مطمئن نہیں کر سکے۔ آپ لوگوں نے ایک بار تو میرے سوالات کا جواب دیا۔ مگر یہ جواب جب میری سمجھ میں نہیں آیا اور میں نے اس پر دوبارہ سوالات کیے تو اب جواب دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ اور اس کے لیے یہ عذر لنگ پیش کر رہے ہیں کہ تمہارا سوال کرنے کا طرز ایسا ہے کہ اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ مولانا جلیل احسن صاحب بے شک اب بھی جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ مگر جس چیز کو وہ ”جواب“ کہہ رہے ہیں وہ محض ایک لا حاصل پوچھ گچھ ہے، جس کا اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ 2۔ لٹریچر سے فکری اختلاف ختم نہ ہونے کی صورت میں جماعت سے ملے رہنے کی دوسری شکل یہ تھی کہ آپ یہ طے کر دیں کہ ”مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح نہیں ہے۔“ رام پور میں 6 ستمبر 1962ء کی گفتگو میں یہ تجویز بھی میں نے آپ حضرات کے سامنے رکھی، مگر اس کو قبول نہیں کیا گیا اور اسے رد کر دیا گیا۔ 3۔ میرے فکری اختلاف کو دور کرنے کی کوشش تو پوری طرح نہیں کی گئی۔ البتہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader