خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
برادر عزیز السلام علیکم گرامی نامہ مل گیا ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی ایک دو روز میں خط لکھوں گا۔ اور اگر موقع نہ مل سکا تو عنقریب میں اعظم گڑھ آ رہا ہوں، ان شاء اللہ وہیں زبانی بات چیت ہو جائے گی۔ امید ہے آپ کا مزاج بخیر ہو گا۔ والسلام ابو اللیث
مولانا ابو اللیث صاحب کے مذکورہ بالا خط مورخہ 7 جنوری 1963ء کے مطابق 22 جنوری کو اعظم گڑھ میں ان سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات دو نشستوں میں تھی، ایک نماز عصر سے پہلے، دوسری نماز عصر کے بعد۔ پہلی نشست میں عبدالعلیم اصلاحی امیر جماعت اسلامی شہر بنارس بھی شریک تھے۔ اور دوسری میں وہ اور حمید اللہ صاحب ایم اے، امیر جماعت اعظم گڑھ اور ڈاکٹر اکرام احمد خاں صاحب (اعظم گڑھ) موجود تھے۔ میں نے کہا کہ میرا اصل مسئلہ مولانا مودودی کے لٹریچر کا مسئلہ ہے۔ بقیہ باتیں جو میں جماعت اسلامی کے افراد، اس کے ڈھانچہ اور پالیسی وغیرہ کے بارے میں کہتا ہوں وہ محض ضمناً ہوتی ہیں، نہ کہ اصلاً۔ چنانچہ یہی بات میں نے رام پور کی روانگی سے قبل وہاں مقامی ارکانِ شوریٰ کی نشست میں آپ سے کہی تھی۔ مگر آپ نے نہیں مانی۔ تاہم اگر آپ اب بھی اسے مان لیں تو یہ مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لٹریچر کو بالکل غلط سمجھیں اور اس کو ترک کردیں، میں نے کہا کہ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس کو بالکل غلط سمجھیں اور نہ مکتبہ یا لائبریری میں اس کی موجودگی پر مجھے اعتراض ہے میرا اعتراض در اصل اس کی حیثیت پر ہے۔ کیوں کہ میرا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کے حلقہ میں اس کی حیثیت یہ بن گئی ہے گویا یہی لٹریچر جماعت اسلامی کی فکر کا مستند ترجمان ہے۔ انہوں نے کہا نہیں، لٹریچر کو ہم یہ حیثیت نہیں دیتے۔ حمید اللہ صاحب نے کہا ہم میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader