تمہید
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح جماعت کے دوسرے مقررین و محررین اس چڑیا خانہ میں اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں، اسی طرح میں بھی اپنی آواز فضا میں نشر کرتا رہتا۔ مگر دواسباب ایسے تھے جن کی بنا پر مجھے وہ فیصلہ کرنا پڑا جس نے بالآخر اس کتاب کی صورت اختیار کی جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ پہلی بات یہ کہ میں اس کو دیانت داری کے خلاف سمجھتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت اسلامی مولانا مودودی کی فکر کی بنیاد پر اٹھی ہے۔ اور تاریخی اسباب نے ان کے لٹریچر کو یہ حیثیت دے دی ہے کہ وہی اب ارکان جماعت کی نظر میں جماعت اسلامی کی فکر کی مستند شرح کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک شخص جماعت کے اندر رہتے ہوئے اگر دین کی کسی ایسی تشریح کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس مخصوص لٹریچر کے مطابق نہیں ہے تو وہ ایک ایسا کام کرتا ہے جو دیانتاً اسے نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ جماعت کا پلیٹ فارم اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے ہے، نہ کہ کسی دوسرے کے نظریات کی تبلیغ کے لیے۔ اس صورت حال میں میرے لیے جماعت کے اندر رہ کر کام کرنے کی شکل صرف یہ تھی کہ جماعت مولانا مودودی کے لٹریچر کے بارے میں یہ طے کر دیتی کہ وہ جماعت کے فکر کی واحد مستند شرح نہیں ہے۔ مگر جیسا کہ امیر جماعت کے خط و کتابت سے واضح ہوگا، مجھے اپنے اس کوشش میں کامیابی نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد میرے لیے دیانت دارانہ راہ یہی تھی کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا، اس کو کہنے کے لیے اس دائرے سے باہر آ جاؤ۔ کیوں کہ اس کے اندر رہتے ہوئے دیانتاً میں اپنے کو اس کا مجاز نہیں سمجھتا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسالہ زندگی کے ذریعہ میں نے اس حلقہ میں چند سال جو کام کیا ہے، اس نے مجھے اس نتیجے تک پہنچایا ہے کہ موجودہ حالت میں محض مثبت طور پر کام کرتے رہنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ وہ مخصوص نزاکت ہے جو مولانا مودودی کے لٹریچر نے پیدا کر دی ہے۔ اس لٹریچر کی غلطی، عام غلطیوں سے مختلف ہے۔ اس نے یہ نہیں کیا ہے کہ دین عقیدہ و عمل کے جس مجموعہ کا نام ہے، اس میں کوئی کمی کی بیشی کی ہو۔ وہ سارے دین کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader