Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کا واحد ماخذ ہے۔ ابواللیث صاحب اور دیگر حاضرین نے بھی اس کی تائید کی۔ اس وقت لوگوں کی گفتگو کا انداز ایسا تھا جیسے میں ایک بالکل بے بنیاد بات کہہ رہا ہوں، میں جماعت اسلامی کے اوپر ایک ایسا الزام عائد کر رہا ہوں جس کا جماعت اسلامی کے حلقہ میں کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ میں نے مولانا ابواللیث صاحب سے کہا کہ پھر حمید اللہ صاحب کا یہی جملہ آپ ذمہ دار اعلیٰ کی حیثیت سے مجھے لکھ کر دے دیجیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کا واحد ماخذ نہیں ہے‘‘ بس یہی الفاظ آپ ایک سادہ کاغذ پر لکھ دیں۔ مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ میں نے بار بار کہا کہ آپ حمید اللہ صاحب کے الفاظ ایک کاغذ پر لکھ کر اپنا دستخط کر دیجیے۔ میں مان لوں گا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس نشست کے تمام شرکاء جانتے ہیں، اور محلہ بدرقہ، مکان نمبر 9 کی دوسری منزل کا بڑا کمرہ جس میں یہ گفتگو ہوئی اس کے در و دیوار اور اس کا فرنیچر گواہ ہے کہ میں نے اس رپورٹ میں ذرا بھی کی بیشی نہیں کی۔ میں نے کہا کہ جب آپ لکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ کے زبانی الفاظ میری خلش کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتے۔ بالآخر عبدالعلیم صاحب اصلاحی کی تجویز کے مطابق یہ طے ہوا کہ میں اپنی بات مختصر طور پر ایک کاغذ پر لکھ کر مولانا ابواللیث صاحب کو دے دوں اور وہ اس کا جواب لکھ دیں، چنانچہ میں نے حسب ذیل تحریر لکھ کر انھیں دی۔

اعظم گڑھ، 23 جنوری 1963ء محترمی مولانا ابواللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند سلام مسنون آپ کو یاد ہوگا، 6 دسمبر 1962ء کو رام پور میں ناظم درس گاہ کے کمرہ میں صدر الدین صاحب، افضل حسین صاحب، عبدالحئی صاحب، عروج قادری صاحب، اور جلال الدین انصر صاحب کی موجودگی میں میں نے کہا تھا کہ اگر آپ یہ طے کر دیں کہ ’’مولانا مودودی کا لٹریچر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page