Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح نہیں ہے۔ “ تو میں اپنی بحث کو واپس لے لوں گا۔ اور حسب سابق جماعت کے اندر رہ کر اپنا کام جاری رکھوں گا۔ یہی آج میرا اصل مسئلہ ہے اور اس کے بارے میں میں آپ کا واضح جواب معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ اصل میں میرا احساس یہ ہے کہ مولانا مودودی کا موجودہ لٹریچر جو جماعت اسلامی کے مکتبہ سے شائع ہورہا ہے، وہ دین کو صحیح رنگ میں پیش نہیں کرتا۔ کسی وجہ سے اس پر خاص طرح کا سیاسی رنگ غالب آ گیا ہے۔ اسی کے ساتھ میرا یہ احساس بھی ہے کہ یہ لٹریچر جماعت اسلامی کے افراد کے نزدیک جماعت اسلامی کے فکر کا واحد مستند ماخذ ہے۔ لٹریچر کی یہ حیثیت میرے اپنے احساس کے اعتبار سے، میرے لیے ضمیر کا مسئلہ بن گئی ہے۔ کیوں کہ میں قرآن وحدیث میں دین کا جو تصور پاتا ہوں، اور جس کے مطابق رسالہ زندگی میں پچھلے سالوں میں میرے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ لٹریچر کے مخصوص رنگ سے ہٹا ہوا ہے۔ اب چونکہ جماعت اسلامی کا حقیقی فکر وہی ہو سکتا ہے جو جماعت کے عام افراد کے نزدیک اس کا فکر ہو۔ اور جب میرے خیال کے مطابق یہ فکر تمام تر وہ ہے جو مولانا مودودی نے پیش کیا ہے تو جماعت میں رہتے ہوئے اس سے ہٹ کر کسی اور انداز میں دعوتی کام کرنا مجھے دیانت داری کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ میری یہ خلش اس طرح دور ہو سکتی ہے کہ آپ مجھے یہ لکھ کر دے دیں کہ جماعت اسلامی کے فکر کا تعین کرنے کے لیے مولانا مودودی کا لٹریچر مستند شرح کی حیثیت نہیں رکھتا۔ براہ کرم اپنا جواب نہایت واضح الفاظ میں تحریر فرمائیں۔ وحید الدین

عبد العلیم صاحب اصلاحی (امیر جماعت اسلامی بنارس) اس وقت مولانا ابو اللیث صاحب کے ساتھ موجود تھے۔ وہ چونکہ اس مسئلہ میں خاص دلچسپی لے رہے تھے، اس لیے میں نے کہا کہ اگر چاہیں تو وہ بھی اسے دیکھ لیں۔ انہوں نے دیکھ کر کہا کہ یہ عبارت ذرا لمبی ہے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page