Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

برادر عزیز السلام علیکم گرامی نامہ مورخہ 23 جنوری کے جواب میں عرض ہے۔ جماعت اسلامی کے فکر کے تعیین کے لیے اصل ماخذ اس کا دستور ہے اور رفقاء جماعت اصلاً محض دستور کے پابند ہیں۔ جس کی ایک دفعہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ ”قرآن وسنت جماعت کی اساس کار ہوں گی۔ دوسری ساری چیزیں ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیش نظر رکھی جائیں گی جس حد تک قرآن وسنت کی رو سے ان کی گنجائش ہو۔“ رہا اس کے لٹریچر کا معاملہ تو وہ کسی ایک مصنف کی کتابوں کا نام نہیں ہے بلکہ متعدد مصنفین کی تصنیفات پر مشتمل ہے جو دین کے مختلف گوشوں کی وضاحت کرتا ہے۔ اور یہ لٹریچر بحیثیت مجموعی جماعت کے نصب العین کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔ البتہ جیسا میں پہلے بھی کئی بار اپنی تحریروں میں لکھ چکا ہوں، وہ انسانی ذہن و قلم کا پیدا کردہ ہے۔ اس لیے دیگر تمام مصنفین کی تصنیفات کی طرح اس میں غلطیاں ہوسکتی ہیں بلکہ میں یہ کہنے کے لیے بھی تیار ہوں کہ مجھے خود یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے لٹریچر میں بعض ایسی چیزیں بھی پائی جاتی ہیں جو ہمارے نصب العین اور اس کی تشریح سے جو دستور میں درج ہے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ ہم دستور کے مطابق اپنے نصب العین کی تفصیل و توضیح برابر کرتے رہتے ہیں، اور ہمیں پورا اطمینان ہے کہ لوگ ہمارے نصب العین کے سمجھنے کے لیے اصل ماخذ دستور اور اس کی تشریحات کو قرار دیں گے، نہ کہ کسی ایسی عبارت کو جو اس سے پوری طرح ہم آہنگ نہ ہو، اس لیے ہم لٹریچر میں اس طرح کی باتوں کی موجودگی سے کوئی خاص اندیشہ محسوس کرتے اور تمام افراد جماعت کے بارے میں میرا احساس یہی ہے کہ انہوں نے دستور میں بیان کردہ نصب العین اور اس کی فکر کی تشریح کو سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے۔ اس لیے جو تحریر اس کے مطابق نہ ہوگی اسے وہ قبول نہ کر سکیں گے اور اس سے ہم آہنگی رکھنے والی تحریر خواہ وہ کسی کی ہو ان کے نزدیک جماعت ہی کی فکر شمار ہوگی۔ میری یہ وضاحت معلوم نہیں آپ کی خلش دور کرنے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں۔ ہماری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page