خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
خواہش تو بہر حال یہی ہے کہ آپ جماعت میں رہ کر بدستور کام کرتے رہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ جماعت میں رہنے کے لیے اس کے نصب العین کو قبول کرنا ایک ضروری شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے ہمارے اطمینان کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ لٹریچر کے بارے میں آپ کی خلش رفع ہو جائے تو آپ اپنی بحث واپس لے لیں گے۔ اور جماعت میں رہ کر اپنا کام جاری رکھیں گے۔ بلکہ آپ کو یہ اطمینان بھی دلانا ہوگا کہ آپ جماعت کے نصب العین کو قبول کرتے ہیں۔ اس کی ضرورت مجھے خاص طور سے اس لیے محسوس ہو رہی ہے کہ آپ کی بحث کا نصب العین کے سوال سے بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ اور (اعظم گڑھ میں) گفتگو کے وقت میرے دریافت کرنے پر بھی آپ نے اس بارے میں کوئی واضح بات نہیں بتائی کہ اب بھی آپ ہمارے دستور میں درج نصب العین اور اس کی تشریح کو صحیح تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔ اور آپ کی یہ پیش نظر تحریر بھی اس سے خاموش ہے۔ میں اس تحریر کے جواب کا منتظر رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ والسلام ابو اللیث
اعظم گڑھ، 7 فروری 1963ء محترم مولانا ابو اللیث صاحب سلام مسنون آپ کا خط مورخہ 19 جنوری ملا۔ آپ نے لکھا ہے کہ ’’جماعت اسلامی کے فکر کے تعین کے لیے اصل ماخذ اس کا دستور ہے۔‘‘ میں عرض کروں گا کہ یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں نے اپنی تحریر مورخہ 23 جنوری میں یہ نہیں پوچھا تھا کہ جماعت کے فکر کا تعین کرنے کے لیے ماخذ کیا ہے۔ بلکہ میرا سوال اس فکر کی شرح کے بارے میں تھا، میں نے معلوم کیا تھا کہ جماعت اسلامی کے فکر کی شرح کے سلسلے میں مولانا مودودی کے لٹریچر کی حیثیت کیا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں تک دستور کا تعلق ہے۔ میں جانتا ہوں کہ دستور کسی جماعت کے فکر کا محض قانونی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader