Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

اظہار ہوتا ہے۔ وہ اس کے فکر کی شرح نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ کا یہ جواب دراصل ایک فاضل بات ہے جس کا اصل سوال سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح آپ کا یہ جملہ بھی اصل سوال کے لحاظ سے بالکل بے محل ہے کہ ”رہا جماعت کے لٹریچر کا معاملہ تو وہ کسی ایک مصنف کی کتابوں کا نام نہیں ہے بلکہ وہ متعدد مصنفین کی تصنیفات پر مشتمل ہے۔“ آپ کا یہ جواب اس وقت صحیح ہوسکتا تھا جب میں نے یہ دریافت کیا ہوتا کہ وہ مجموعہ کتب جس کا نام آپ کے نزدیک ”جماعتی لٹریچر“ ہے، وہ ایک مصنف کی تصنیفات پر مشتمل ہے یا متعدد مصنفین اس کی فہرست میں شامل ہیں اس کے بجائے میں نے متعین طور پر مولانا مودودی کے لٹریچر کے بارے میں سوال کیا تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے فکر کی شرح کے سلسلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔ اپنا یہ جواب درج کرنے کے بعد آپ نے اپنے خط میں لکھا ہے، ”میری یہ وضاحت معلوم نہیں آپ کی خلش دور کرنے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں۔“ یہ الفاظ پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ مندرجہ بالا جواب لکھتے ہوئے شاید آپ پر خود بھی یہ احساس طاری تھا کہ آپ میری اصل بات کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جب لکھنے والا خود ہی مطمئن نہ ہو تو پڑھنے والے کو کس طرح اطمینان ہوسکتا ہے۔ تاہم آپ کے خط کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ نے میری زبانی اور تحریری تاکید کے باوجود، اگرچہ کسی وجہ سے میرے سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ مگر بالواسطہ طور پر آپ نے بتا دیا ہے کہ میرے اس سوال کا آپ کے پاس کیا جواب ہے اس سے میری مراد آپ کے خط کا حسب ذیل فقرہ ہے۔ ”یہ لٹریچر بحیثیت مجموعی جماعت کے نصب العین کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔“ آپ کے اس جملہ کا مطلب میرے نزدیک دوسرے لفظوں میں یہی ہے کہ جماعت کے فکر کی ترجمان کے سلسلے میں زیر بحث لٹریچر کو آپ مستند شرح کا مقام دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page