Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کی یہ وضاحت غیر ضروری ہے کہ ”البتہ وہ انسانی ذہن و قلم کا پیدا کردہ ہے۔ اس لیے دیگر تمام مصنفین کی تصنیفات کی طرح اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں“۔ کیوں کہ جب میں کہتا ہوں کہ جماعت اسلامی کے افراد مولانا مودودی کے لٹریچر کو جماعت کے فکر کی شرح کے سلسلے میں مستند درجہ دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ خدانخواستہ یہ لوگ الہی کلام کی طرح اس کو ہر قسم کی غلطیوں سے یکسر پاک سمجھتے ہیں۔ ”بعض ایسی چیزیں“ جن کا اس لٹریچر میں موجود ہونے کا آپ نے اعتراف کیا ہے وہ تو انسانی کلام کی خصوصیت ہے۔ ایک دو سطریں یا پیرا گراف ہر انسانی تحریر میں ایسی ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔ کوئی انسانی کلام اس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ دراصل اس قسم کی اتفاقی بھول چوک کا کوئی سوال نہیں ہے بلکہ اس عمومی اور مجموعی ترجمانی کا سوال ہے جو زیر بحث لٹریچر کے صفحات میں پھیلی ہوئی ہے۔ اور یہ ترجمانی جیسا کہ آپ نے لکھا، آپ کے نزدیک جماعت اسلامی کے فکر کی صحیح ترجمانی ہے۔ اس بنا پر اب میں دوبارہ اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میرے لیے جماعت اسلامی میں رہنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ جیسا کہ میں واضح طور پر بتا چکا ہوں، مولانا مودودی جس انداز سے دین کی تشریح کرتے ہیں اس سے مجھے اختلاف ہے۔ اور چوں کہ یہی تشریح آپ کے اور عام افراد جماعت کے نزدیک جماعت کے فکر کی صحیح ترجمانی ہے، اس لیے میرے لیے صحیح راہ یہی ہے کہ میں اس سے الگ ہو جاؤں۔ یہ ہے اصل بات کے سلسلے میں آپ کے خط کا جواب۔ مگر آپ نے اسی کے ساتھ ایک اور چھیر دیا ہے۔ آپ نے لکھا ہے: ”ہمارے اطمینان کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ لٹریچر کے بارے میں آپ کی خلش رفع ہو جائے تو آپ اپنی بحث واپس لے لیں اور جماعت میں رہ کر اپنا کام جاری رکھیں ۔ بلکہ آپ کو یہ اطمینان بھی دلانا ہوگا کہ آپ جماعت کے نصب العین کو قبول کرتے ہیں۔“ معلوم نہیں کس بزرگ نے آپ کو یہ مشورہ دیا ہے کہ آپ مجھ سے نصب العین یا دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page