تمہید
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
تسلیم کرتا ہے۔ مگر اس مجموعہ کے مختلف اجزاء کی واقعی حیثیت اس کی تشریح میں بدل گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ متاثر اذہان بظاہر سب کچھ مانتے ہیں۔ مگر اس "سب کچھ" کو وہ اس طرح نہیں مانتے جس طرح حقیقتاً انہیں ماننا چاہیے۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل چیز خدا سے تعلق پیدا کرنا اور آخرت کے عذاب سے ڈرنے کا مسئلہ ہے۔ اسی کو ہمیں اپنانا ہے اور اسی کی طرف اہل دنیا کو بلانا ہے مگر اس فکر نے آخرت اور تعلق باللہ کی بات کو تربیت کی بات بنا کر رکھ دیا ہے، اس کی تشریح کے خانے میں یہ چیزیں ایسی حیثیت اختیار کر گئی ہیں گویا یہ کارکن تیار کرنے کی تربیتی بنیادیں ہیں، نہ کہ یہی وہ اصل بات ہے جس کے لیے ہمیں متحرک ہونا چاہیے۔ اصل مسئلہ دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا مسئلہ ہے۔ اور آخرت کا خوف اور اس طرح کی چیزیں اس لیے ہیں تاکہ جو لوگ انقلاب عالم کے اس پروگرام کے لیے اٹھیں یا انقلاب کے بعد نظام دنیا کو سنبھالیں، ان میں مقصد کی لگن اور کردار پیدا ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جماعت کے لوگ آخرت کی کامیابی کے بجائے دنیا میں کامیاب ہونے کو اپنا حقیقی مقصد بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا حقیقی مقصد تو بلاشبہ آخرت ہی کی کامیابی ہے مگر آخرت کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دنیا میں کیا کرنا ہے، اس کے متعلق ان کا تصور غلط ہو گیا ہے۔ ایک شخص اگر یہ نظریہ قائم کرلے کہ دنیا کی مادی قوتوں کی تسخیر آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے، اور یہ سوچ کر وہ اس کے لیے کام کرنا شروع کر دے، تو اس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ اصل مقصد کی حیثیت سے تو بے شک اس نے آخرت میں خدا کی رضا ہی کو اپنے سامنے رکھا ہے۔ مگر اس رضا کو حاصل کرنے کی صورت کیا ہو، دوسرے لفظوں میں، دنیا میں ہم کیا پانے کی کوشش کریں تاکہ آخرت میں ہم خدا کو پاسکیں، اس کے متعلق اس کا تصور بدل گیا ہے۔ اس تشریح کا نتیجہ یہ ہے کہ تعلق باللہ اور آخرت وغیرہ کی باتیں اگرچہ جماعت کے "پروگرام"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader