Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے بھی مجھے کوئی امید نظر نہیں آتی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس سلسلے میں ہماری آپ کی گفتگو کا آغاز جون 1960ء میں ہوا تھا۔ اس دوران میں بار بار گفتگو کے مواقع آئے۔ مولانا صدر الدین صاحب کی وساطت سے تحریری تبادلہ خیال بھی نہایت تفصیل سے ہوا۔ مگر اصل مسئلہ جہاں ڈھائی سال پہلے تھا، وہیں اب بھی ہے۔ اس لیے درخواست تو یہی ہے کہ اس مسئلہ کو بے جا طول دینے کے بجائے اب اسے ختم کر دیں۔ تا کہ آپ کو بھی، آپ کے الفاظ میں ”بحث ومباحثہ“ سے چھٹی مل جائے۔ اور میں بھی یکسو ہو کر جو کچھ کرنا چاہوں اسے کر سکوں۔ خادم وحید الدین

میرے اس خط کے جواب میں مولانا ابو اللیث صاحب کا خط مورخہ 28 فروری ملا جس میں دوبارہ مجھے مجلس شوریٰ کے اجتماع میں شرکت کرنے کے لیے دہلی بلایا گیا تھا۔ میں نے لکھا کہ: ”میں دہلی نہ آسکوں گا۔ اس لیے آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، اس کو لکھ کر بھیج دیں۔ ان شاء اللہ میں اس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے آپ کو اپنے جواب سے مطلع کر دوں گا۔“ اس کے بعد موصوف کا خط مورخہ 10 اپریل ملا جس میں پھر تاکید کی گئی تھی کہ میں مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کروں تا کہ اس موقع پر بات چیت بھی ہو سکے۔ ورنہ بصورت دیگر اعظم گڑھ میں ملاقات ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ مولانا عید الضحیٰ سے پہلے اپنے وطن تشریف لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد خط میں درج تھا: ”لیکن اگر خدا نخواستہ آپ اس تاخیر کے لیے آمادہ نہ ہوں تو پھر میں بجز اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ آپ یہ سمجھتے ہوئے اپنے کاموں کا نقشہ بنائیں کہ آپ کا تعلق جماعت سے منقطع ہو چکا ہے، میں یہ جاننے کا منتظر ہوں کہ آپ تشریف لا رہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page