Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں یا میری آمد تک معاملہ کو ملتوی رکھنا چاہتے ہیں۔ یا خدانخواستہ آخری گفتگو کے بغیر ہی معاملہ کو فوراً ختم کر دینا چاہتے ہیں۔“ مولانا ابواللیث صاحب کا یہ خط آیا تو اس وقت میں اعظم گڑھ میں موجود نہ تھا۔ واپسی کے بعد میں نے حسب ذیل خط لکھا: جواب اعظم گڑھ، 26 اپریل 1963ء محترمی سلام مسنون میں مصروفیت کے لہجے میں چلا گیا تھا اس لئے آج کا خط 10 رجب کو مجھ کو شام کو میں دو ہفتہ کے لیے باہر چلا گیا تھا۔ اس لیے آپ کا خط مورخہ 10 اپریل مجھے کل شام کو مغرب بعد ملا۔ جواباً عرض ہے کہ اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ سے میری ایک ”آخری گفتگو“ ہو جائے تو میں اس کے لیے راضی ہوں۔ آپ جو باتیں آخری طور پر کہنا چاہتے ہیں اگر وہ آپ نے خط میں لکھ دیا ہوتا تو اب تک یہ کام بھی ہو گیا ہوتا۔ لیکن بہر حال جب آپ عیدالضحیٰ کے پہلے اعظم گڑھ آنے والے ہیں تو یہیں گفتگو ہو جائے گی۔ ب پ ی ت پ خادم وحید الدین ا م ب ک ن فہم ہو گئے یہ جواب چونکہ سفر کی وجہ سے میں بہت دیر میں لکھ سکا تھا۔ اس لیے مولانا کو غلط فہمی ہوگئی کہ میں گفتگو کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوں اور بغیر آخری گفتگو ہی کے فیصلہ حاصل کرنا چاہتا ہوں چنانچہ مندرجہ بالا خط کی روانگی کے دوسرے دن قیم جماعت کے دستخط سے مجھ کو حسب ذیل ماروں پنا پہ مندرجہ بالا تحریر موصول ہوئی۔ تحریر موصول ہوئی۔ دہلی، 25 اپریل 1963ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page