Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کے نزدیک گمراہی ہے، اس کے متعلق مجھ سے کہتے ہیں کہ جاؤ اس کی تبلیغ کرو، تو مجھے نہیں معلوم کہ آپ خدا کے یہاں کس طرح بری الذمہ ہو سکیں گے۔ خادم وحید الدین

اس دوران میں میں مولانا مودودی کے جواب کا منتظر رہا۔ مگر دو ہفتے گزر گئے، نیز درمیان میں جماعت اسلامی ہند کی مجلس شوری کے رکن اور جماعت اسلامی حلقہ بمبئی کے امیر جناب شمس صاحب کا ایک خط موصول ہوا جس میں ایک مزید بات کا ذکر تھا۔ چنانچہ اس حوالے سے میں نے مولانا کے نام تیسرا خط روانہ کیا۔ رامپور، 9 جولائی 1962ء محترمی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سلام مسنون آپ کے خط مورخہ 15 جون 1962ء کے جواب میں میں نے 25 جون کو ایک لفافہ روانہ کیا تھا جس کے جواب کا انتظار ہے۔ اس دوران میں مجھے جناب شمس پیرزادہ صاحب کا خط ملا جن سے حج کے موقع پر مکہ میں آپ کی ملاقات ہوئی تھی، اور انہوں نے آپ سے میرے مضمون کا ذکر کیا تھا۔ ان کی روایت کے مطابق آپ نے انھیں جواب دیا۔ ”وحید الدین خان صاحب سے کہئے کہ وہ اپنے اعتراضات قلم بند کر کے میرے پاس بھیج دیں۔ میں ان شاء اللہ ان کا جواب دے دوں گا۔“ اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک مہینہ پہلے آپ نے خود جن اعتراضات کا جواب دینے کی پیش کش فرمائی تھی، ایک مہینہ بعد ان کا جواب دینا آپ کے نزدیک ”فضول“ کیسے ہو گیا۔ جہاں تک آپ کے خط مورخہ 15 جون کا تعلق ہے اس میں جواب نہ دینے کی جو وجہ بتائی گئی ہے وہ تو بالکل نا قابل فہم ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ”آپ کی تحریر میں بڑے مفصل اعتراضات کیے گئے ہیں۔“ اور یہ کہ ”آپ کی بحث کو پڑھ کر میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ مسئلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page