Urdu book · تعبیر کی غلطی

تمہید

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

میں شامل ہیں مگر وہ اس کے افراد میں اپنا حقیقی مقام حاصل نہیں کرسکیں ۔ ایسی باتیں ”تربیت“ کا موضوع بن کر رہ جاتی ہیں ۔ وہ اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے لوگوں کے ذہنوں میں جگہ پانے میں ناکام رہتی ہیں ۔ اس معاملے میں اس تعبیر سے متاثر افراد کی مثال کچھ ایسی ہی ہے جیسے ایک ایسا برتن جس کا رخ غلط ہو گیا ہو۔ ظاہر ہے کہ برتن کا رخ ٹھیک نہ ہو اور اس میں آپ پانی ڈالیں تو وہ ادھر اُدھر لگ کر باہر بہہ جائے گا۔ وہ اس کے اندر داخل نہیں ہو سکتا۔ اور اگر اندر جائے گا بھی تو بہت کم ۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ میں خوف خدا اور فکر آخرت سے متعلق جو بات کہتا ہوں ، اس کو اس تعبیر سے متاثر ذہن رد نہیں کرتا وہ اس کو دلچسپی سے پڑھتا اور سنتا ہے۔ مگر لٹریچر نے اس کا جو ذہنی سانچہ بنا دیا ہے ، اس کی وجہ سے اس قسم کی باتیں اس کے اندر صحیح شکل میں نہیں گھستیں۔ ایسی جو بات بھی کہی جاتی ہے ، وہ بس ”تربیت“ کے خانے میں چلی جاتی ہے۔ اب چونکہ دین اور فطرت میں کامل مطابقت ہے۔ اس لیے اگر فطرت میں ذراسی بھی کجی آ جائے تو دین اس کے اندر ٹھیک ٹھیک بیٹھ نہیں سکتا۔ اس لیے سننے اور پڑھنے کے باوجود اس طرح کی باتوں کا واقعی اثر نہیں ہوتا۔ اس کو ذہن کے اندر وہ مقام نہیں ملتا جو حقیقتاً اسے ملنا چاہیے ۔ یہ وجہ تھی جس کی بنا پر مجھے فیصلہ کرنا پڑا کہ محض مثبت طور پر اپنی بات کہتے رہنا بے سود ہے ۔ بلکہ ضروری ہے کہ سابقہ تعبیر پر براہ راست تنقید کر کے پہلے اس کا غلط ہونا ثابت کیا جائے اور اس کے بعد اس کے بالمقابل صحیح تعبیر پیش کی جائے۔ اس کے بغیر اصل بات واضح نہیں ہو سکتی۔ مجھے یہ خوش فہمی نہیں ہے کہ اس طرح تنقید ہو جانے کے بعد جماعت کے تمام لوگ اپنے خیالات سے توبہ کر کے دوسری فکر کو قبول کر لیں گے ۔ ایسا کبھی تاریخ میں نہیں ہوا اور نہ آج ایسا ہو سکتا ہے۔ جماعت کے فکر کو وجود میں آئے اب چوتھائی صدی ہو رہی ہے ۔ کتنے کالے بال اس راہ میں سفید ہو گئے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی میں اس کو قبول کیا تھا ، اور اب وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page