Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

چند اعتراضات کا نہیں ہے۔ بلکہ آپ کا مطالعہ آپ کو بالکل اس سمت کے خلاف اس سمت میں لے گیا ہے جس سمت میں میرا آج تک کا مطالعہ مجھے لے گیا ہے۔“ اور اس کے بعد یہ کہہ کر جواب دینے سے معذوری ظاہر کی ہے کہ ”اس حالت میں یہ بات کچھ فضول ہی محسوس ہوتی ہے کہ میں اور آپ کسی بحث میں الجھیں۔“ میں نہیں سمجھ سکا کہ ان دونوں فقروں میں منطقی ربط کیا ہے۔ بظاہر دوسرا فقرہ پہلے فقرہ کا نتیجہ ہے۔ مگر کسی اعتراض کا ”مفصل“ ہونا اور بنیادی طور پر آپ کے نقطۂ نظر کے ”خلاف“ ہونا اس بات کو کیسے لازم کرتا ہے کہ آپ اس کا جواب نہ دیں۔ کیا صرف غیر مفصل اور غیر بنیادی باتیں ہی قابل جواب ہوتی ہیں یا آپ کا اپنا مسلک یہی ہے کہ آپ صرف ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو مفصل نہ ہوں، اور آپ کے نقطۂ نظر کے بالکل خلاف نہ جاتے ہوں۔ آپ کے اس جواب کی معنویت میری سمجھ میں نہیں آئی۔ میں پھر کہوں گا کہ اس مسئلہ پر خاموشی کا رویہ اختیار کرکے آپ نے کو آپ نے بڑی ذمہ داری میں ڈال دیا ہے۔ اگر آپ کا احساس یہ ہے کہ میرا اور آپ کا راستہ ایک دوسرے کے ”بالکل خلاف سمت“ میں جا رہا ہے۔ تو یقیناً یا آپ صحیح راستہ پر ہوں گے یا میں۔ اب اگر آپ میرے راستہ کو قبول نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود کو صحیح راستہ پر سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں نہیں سمجھتا کہ آپ کے لیے خاموشی کیوں کر جائز ہوسکتی ہے۔ اگر آپ اپنے کو برحق سمجھتے ہیں اور اس کے لیے آپ کے پاس قاطع دلائل بھی موجود ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ آپ میری غلط فکری کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ خود کو اس نازک خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ آخرت میں آپ سے پوچھا جائے کہ تم ایک شخص کی غلطی کو جان رہے تھے اور وہ خود تم سے دریافت کرنے کے لیے تمہارے پاس حاضر بھی ہوا تھا۔ پھر کیوں تم نے اس کی غلطی اس پر واضح نہیں کی۔ اگر کسی کے پاس حق ہے تو وہ خدا کی ایک امانت ہے۔ اور اس امانت کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہے جو اس حق سے محروم ہو۔ پھر کیا آپ اس امانت کو اس کے حقدار تک پہنچانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ میری یہ چند سطریں اگر آپ کو متاثر کر سکیں اور آپ اپنا تبصرہ لکھ کر مجھے بھیجنے پر آمادہ ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page