خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
جائیں تو میری خوش نصیبی ہوگی۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو مجبوراً میں عرض کروں گا کہ میری تحریر مجھے واپس بھیج دیں۔ خادم وحید الدین
اس کے بعد 20 جولائی 1962ء کی ڈاک سے مولانا مودودی کے پاس بھیجی ہوئی تحریر مجھے واپس مل گئی۔ اس کے دو دن بعد 23 جولائی 1962ء کو ایک لفافہ ملا جس میں درج ذیل خط ملفوف تھا۔ لاہور، 14 جولائی 1962ء محترمی و مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ عنایت نامہ مورخہ 9 جولائی ملا۔ آپ کا 25 جون والا خط مجھے ابھی تک نہیں پہنچا۔ میں نے شمس پیرزادہ صاحب سے جو بات کہی تھی وہ اس بنا پر تھی کہ مجھے آپ کے خیالات کا اس وقت تک پوری طرح علم نہ تھا۔ اپنے پچھلے خط میں مختصر معذرت لکھتے ہوئے بھی جو رائے میں نے قائم کی تھی وہ آپ کے مضمون پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد قائم کر لی گئی تھی، بعد میں میں نے پورے مضمون پر ایک نگاہ ڈالی تو پتہ چلا کہ آپ کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ آپ کا مطالعہ نہایت ناقص ہے۔ آپ نے غلط نتائج نکالے ہیں۔ اور میرے مسلک کو بھی آپ پوری طرح نہیں سمجھے ہیں۔ بلکہ اس کی ایک غلط تعبیر آپ نے کر لی ہے لیکن غضب یہ ہے کہ اس مضمون میں آپ اپنے آپ کو ایک بہت اونچے مقام پر فائز سمجھ کر کلام فرما رہے ہیں۔ اور آپ کا انداز کلام یہ ہے کہ جو شخص آپ کے نقطۂ نظر کو قبول نہیں کرتا وہ جاہل و نادان بھی ہے اور ضال و مضل بھی۔ اب میری مشکل یہ ہے کہ علم کی کمی کے ساتھ جو شخص اس طرح کے زعم میں مبتلا ہو اس سے مخاطب ہونے کی مجھے عادت نہیں ہے۔ آپ کے لیے اب دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اپنے نقطۂ نظر کے مطابق اپنی دعوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader