خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
مثبت طور پر پیش کریں اور خواہ مخواہ دوسروں کی تردید کو اپنا فرض نہ سمجھ لیں۔ یہ راہ اختیار کریں گے تو دوسروں کو بھی آپ سے تعرض کی ضرورت نہ ہوگی۔ دوسری راہ یہ ہے کہ آپ میری تردید ہی سے اپنے کام کا آغاز فرمائیں اور یہ سمجھیں کہ یہ کام آپ کے اوپر فرض ہو چکا ہے۔ یہ راہ آپ اختیار کریں گے تو بشرط ضرورت میں خلق خدا کو آپ کی پیدا کردہ غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے آپ کے دلائل کار د کروں گا۔ آپ خود تو اس مقام سے گزر چکے ہیں جہاں آپ کو سمجھانے کی کوشش مفید ہوسکتی تھی۔ البتہ خلق خدا اس کی مستحق ضرور ہے کہ اسے غلط فہمی میں پڑنے سے بچایا جائے۔ اس کام کو اگر ہندوستان و پاکستان کے دوسرے لوگ کر دیں تو مجھے بولنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ ورنہ مجبوراً یہ ناگوار کام کروں گا۔ آپ کا مضمون اس خط کے ساتھ واپس بھیج رہا ہوں۔ خاکسار ابو الاعلیٰ مولانا مودودی کا یہ جواب پڑھنے کے بعد مجھ پر جو پہلا تاثر ہوا وہ یہ تھا کہ مولانا مجھ پر جس زعم میں مبتلا ہونے کا الزام دے رہے ہیں۔ خود انہوں نے اپنے خط میں اس کا نہایت شدت کے ساتھ مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے 25 جولائی کو ان کے نام حسب ذیل خط روانہ کیا۔ رامپور، 25 جولائی 1962ء محترمی سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 14 جولائی ملا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے میرے بارے میں یہ رائے قائم کر لی کہ میں ” اس مقام سے گزر چکا ہوں جہاں سمجھانے کی کوشش مفید ہوسکتی ہے۔“ کاش آپ جانتے کہ میرے سامنے حق کی تلاش کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ شاید آپ نے میری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader