خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
تحریر کی موجودہ تفصیلی ہیئت دیکھ کر یہ رائے قائم کی ہے۔ مگر اس کی یہ ہیئت در اصل اس لیے نہیں ہے کہ میں اب کچھ سننا نہیں چاہتا۔ بلکہ صورت حال کی مکمل تو جیہ ڈھونڈتے ہوئے میں اس تفصیلی شکل تک پہنچ گیا ہوں۔ آپ خود تسلیم کریں گے کہ کوئی واقعہ محض جزئی مطالعہ سے پوری طرح سمجھا نہیں جاسکتا۔ بلکہ ہر واقعہ کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں اور وہ ایک بڑے کل سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی واقعہ کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پورے سیاق میں رکھ کر اسے دیکھا جائے۔ بس اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے جس نے میری تحریر کو موجودہ شکل دی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے میری تحریر کو میرے ”ناقص مطالعہ اور علم کی کمی“ کہہ کر چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ آپ کے لیے یہ زیادہ بہتر تھا کہ آپ میرے اعتراضات کا تجزیہ کرکے اس کے استدلال کی کمزوریوں کو ظاہر فرما دیتے۔ اس طرح اصل بات کی تردید بھی ہو جاتی اور میرا ناقص علم بھی خود بخود ثابت ہو جاتا۔ مگر افسوس کہ اس کے بجائے آپ نے صرف دعوے پر اکتفا فرمایا۔ اگر فی الحال آپ سارے مضمون پر مفصل اظہار رائے نہیں کر سکتے تھے تو یہ بھی ممکن تھا کہ ”مشتے نمونہ از خروارے“ کے طور پر آپ اس کی ایک دو بحثوں کو لے کر میرے استدلال کی غلطیاں واضح کر دیتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو یہ میرے لیے آپ کے اس خط سے زیادہ مفید ہو سکتا تھا جس میں آپ نے صرف غیظ و غضب کا اظہار کیا ہے اور اصل بات سے کوئی تعرض نہیں فرمایا ہے۔ اپنے خط کے آخر میں جو بات آپ نے لکھی ہے۔ اس نے مجھے بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اپنی لمبی تحریر یا آپ کے الفاظ میں ”کتاب“ نقل کر کے میں نے آپ کے پاس بھیجنے کی زحمت اسی لیے برداشت کی تھی کہ اگر میں غلطی پر ہوں تو پہلے ہی مجھے اپنی غلطی کا علم ہو جائے اور اس کو خواہ مخواه شائع کرنے کی حماقت میں مبتلا نہ ہوں۔ مگر آپ نے اپنے خیالات کے اظہار کی شرط یہ رکھی ہے کہ پہلے وہ چھپ کر منظر عام پر آ جائے۔ اس کے بعد آپ اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader