خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ اگر مجھے چھاپنے ہی کا شوق ہوتا تو میں اب سے بہت پہلے اس کو چھاپ چکا ہوتا۔ مگر میں طویل مدت سے اس مسئلہ پر لوگوں سے تبادلہ خیال کرتا رہا ہوں۔ لیکن جب دیگر افراد سے میرا اطمینان نہ ہوا تو میں نے آپ کی طرف رجوع کیا۔ اگر یہ میری غلطی ہے تو افسوس کہ اس غلطی میں میرے سوا بہت سے دیگر افراد جماعت جو میری طرح بہک نہیں گئے بلکہ اب بھی آپ کے فکر پر گہرا اعتقاد رکھتے ہیں، وہ بھی براہ راست شریک ہیں۔ کیوں کہ انھیں نے مجھ کو یہ مشورہ دیا تھا بلکہ اصرار کیا تھا کہ میں اپنی تحریر آپ کے پاس بھیج کر آپ کا تبصرہ معلوم کروں۔ کاش اب بھی آپ میرے سوالات کا جواب دینے پر راضی ہو جائیں جہاں تک میرا معاملہ ہے، جن لفظوں میں اور جس طرح آپ فرمائیں میں وعدہ کرنے کے لیے تیار ہوں کہ میں اپنی حد تک انتہائی بے لاگ طریقے سے اس پر غور کرنے کی کوشش کروں گا۔ تاہم اگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکے تو میں اس پر بھی اپنے آپ کو بالکل آمادہ پاتا ہوں کہ اگر حالات مجھ کو اس کی اشاعت تک لے گئے اور اشاعت کے بعد آپ ”خلق خدا“ کے لیے جو تبصرہ لکھیں گے، اس کو دیکھ کر مجھ پر واضح ہوگا کہ میں غلطی پر تھا تو ان شاء اللہ کسی بھی مرحلے میں کوئی چیز میرے لیے واپسی کی راہ میں مانع نہیں ہوگی۔ البتہ آپ ضرور اس کے ذمہ دار ٹھہریں گے کہ آپ نے میری اصلاح کی کوشش نہیں فرمائی اور اصلاح کی کوشش سے پہلے بطور خود یہ رائے قائم کر لی کہ میں راہ راست پر آنے والا نہیں ہوں۔ خادم وحید الدین ❀❀❀❀❀ لاہور ، 15 اگست 1962 ء محترمی و مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا عنایت نامہ مورخہ 25 جولائی ملا۔ ایک مدت کے تحریری کام اور بکثرت لوگوں سے معاملات کرتے کرتے میرے اندر کم از کم اتنی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ کسی شخص کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader