خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
مضمون کو پڑھ کر اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھ سکوں۔ آپ کا مضمون پڑھنے کے بعد آپ کے ذہن کی جو کیفیت میرے سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف آپ کے اندر سخت زعم اور ادعا پیدا ہو چکا ہے۔ اور دوسری طرف جس نقطہ نگاہ کی تردید آپ کرنا چاہتے ہیں اس کے خلاف آپ کے اندر اچھی خاصی کد پیدا ہو چکی ہے۔ حتی کہ آپ بڑے جوش و خروش سے اس کو پیش کرنے والے پر چوٹیں کر گزرے ہیں۔ اس حد تک پہنچ چکنے کے بعد اب آپ مجھ سے رجوع فرماتے ہیں۔ کیا آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں آپ سے مناظرہ بازی کروں ؟ براہ کرم آپ اپنے مضمون کو خود تنقیدی نگاہ سے دیکھیں کہ اس میں آپ کس مقام سے بول رہے ہیں اور مجھے آپ نے کیا فرض کر کے از اول تا آخر گفتگو فرمائی ہے۔ اگر آپ کے اندر ابھی کچھ احتساب نفس کی صلاحیت باقی ہے تو مجھے امید ہے کہ آپ اپنے مضمون کے تنقیدی مطالعہ کے بعد خود اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ اس کے بارے میں جو طرز عمل میں نے اختیار کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طرز عمل میں اختیار نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے بعد اگر آپ اس مقام بلند سے جس پر آپ نے اپنے آپ کو فائز سمجھ کر کلام کیا ہے کچھ نیچے اترنے پر راضی ہوں، اور یہ بھی محسوس فرمائیں کہ جس آدمی پر آپ نے پے در پے گرفتیں فرمائی ہیں وہ کم از کم طفل مکتب نہیں ہے، تب اس امر کا امکان پیدا ہوگا کہ میں ان مسائل پر آپ سے گفتگو کروں جنھیں آپ اپنے مضمون میں زیر بحث لائے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو آپ کے لیے وہی دو راستے کھلے ہیں جن کا میں نے پہلے ذکر کر دیا ہے۔ براہ کرم صاف گوئی کو غیظ و غضب نہ سمجھیے ۔ میں آپ کو کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں رکھنا چاہتا۔ اس لیے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر اپنے تاثرات پہلے بھی ظاہر کر دیے تھے، اور اب بھی کر رہا ہوں۔ خاکسار ابو الاعلی ൱൱൱൱൱ اس کے بعد میں نے حسب ذیل خط مولانا مودودی کے نام روانہ کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader