خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
رامپور، 14 اگست 1963 گرامی نامہ مورخہ 15 اگست ملا۔ میں سمجھتا تھا کہ آپ مجھ سے اس قدر ناراض ہو چکے ہیں کہ اب شاید آئندہ خط و کتابت کا سلسلہ جاری نہ رہ سکے گا۔ مگر اب تازہ خط کو دیکھ کر امید پیدا ہو گئی ہے کہ ابھی اس بات کا امکان باقی ہے کہ آپ مجھ سے ان مسائل پر گفتگو کریں جنھیں میں اپنے مضمون میں زیر بحث لایا ہوں۔ محترم مولانا! اگر میں اپنے آپ کو جانتا ہوں، اور شاید دنیا میں سب سے بڑی حقیقت جس کو آدمی جان سکتا ہے، وہ اس کی اپنی ذات ہی ہے، تو میں عرض کروں گا کہ میرے بارے میں آپ کا یہ تصور بالکل خلاف واقعہ ہے کہ میں سخت زعم اور ادعا میں مبتلا ہوں۔ اور جس نقطہ نظر پر میں نے تنقید کی ہے اس سے مجھے اس قدر کد پیدا ہو چکی ہے کہ میں مناظرہ بازی کی سطح پر اتر آیا ہوں، اور اب میرا یہ حال ہے کہ یہ امر بھی مشتبہ ہو گیا ہے کہ میرے اندر احتساب نفس کی صلاحیت باقی ہے یا نہیں۔ میرے نقطہ نظر سے آپ کا اختلاف تو میرے لیے حیرت انگیز نہیں۔ مگر آپ کا یہ ریمارک ضرور حیرت انگیز ہے۔ کیوں کہ جب میں اپنا جائزہ لیتا ہوں تو اپنی اندرونی کیفیت کو اس کے بالکل خلاف پاتا ہوں جو بدقسمتی سے آپ نے سمجھا ہے ۔ یہ میرے متعلق ایسی بات ہے جس کی میں اس دنیا میں سب سے زیادہ یقین کے ساتھ تردید کر سکتا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اب سے چار مہینہ پہلے جب دہلی میں فیصلہ کیا گیا کہ میں اپنی تحریر کی ایک نقل آپ کے پاس بغرض تبصرہ بھیجوں تو میرے متعدد ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ پوری تحریر بھیجنا مناسب نہ ہوگا۔ بلکہ صرف اس کا وہ حصہ بھیجنا چاہیے جس میں نظریاتی اور علمی بحث کی گئی ہے، بلکہ مولانا ابواللیث صاحب نے تو فرمایا تھا کہ الگ سے ایک سوال نامہ مرتب کرو جس میں خالص مستفسرانہ انداز میں متعلقہ آیات کے بارے میں اپنا اشکال پیش کیا گیا ہو۔ اور اسی کو بھیجو۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مولانا مودودی چونکہ ذاتی طور پر تم سے واقف نہیں ہیں اس لیے وہ پوری تحریر دیکھ کر تمہارے بارے میں غلط فہمی میں پڑ جائیں گے۔ مگر میں نے ان لوگوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader