Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

کا مشورہ نہیں مانا۔ اور پوری تحریر کو بھیجنا اس لیے زیادہ مناسب سمجھتا تاکہ پوری بات آپ کے سامنے آجاۓ اور آپ زیادہ واضح طور پر اس کا جواب دے سکیں ۔ جہاں تک غلط فہمی کے اندیشہ کا سوال تھا میں نے کہا۔ مودودی صاحب کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہ بڑے وسیع ظرف کے آدمی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ ان مخصوص لوگوں میں سے ہیں جو تحریر دیکھ کر آدمی کو پہچان لیا کرتے ہیں۔ اس لیے وہ محض کچھ الفاظ اور انداز بیان کی وجہ سے میرے بارے میں کوئی غلط راۓ قائم نہیں کریں گے۔ مگر شاید اس دنیا کا یہ عالمگیر اصول ہے کہ کوئی چیز استثناء سے خالی نہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری تحریر کا انداز بظاہر سخت ہے۔ لیکن اگر آپ میری سطروں کے پیچھے جھانک سکتے تو آپ کو نظر آتا کہ وہاں ایک شکستہ دل ، ایک سراپا تشویشناک قلب اور عجز کے انتہائی احساس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ تم جس ”مقام بلند“ پر اپنے کو فائز سمجھ رہے ہو اس سے کچھ نیچے اترو تو گفتگو ہو سکتی ہے۔ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ ”کچھ “ نیچے اترنے کا سوال ہی کیا ہے، میں تو ہمہ تن اپنے کو نیچے پڑا پاتا ہوں۔ میری قلبی کیفیت اور میرا واقعی احساس آپ کی اس تشخیص سے اتنا دور ہے کہ مجھے بار بار تعجب ہوتا ہے کہ کیا اس دنیا میں اتنی خلاف واقعہ راۓ بھی قائم کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ سے میرے سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اگر کوئی شخص اپنے جیسے گوشت پوست رکھنے والے ایک انسان کو سمجھنے میں اتنی بڑی غلطی کر سکتا ہے تو اس کا امکان بدرجہ اولی تسلیم کرنا چاہیے کہ ایک شخص خدا کے دین کو سمجھنے میں غلطی کر جاۓ۔ غور فرمائیے ۔ اگر میرے اندر دعائی نفسیات کام کر رہی ہوتی تو کیا یہ ممکن تھا کہ میں آپ کا تبصرہ معلوم کرنے کے لیے بے چین رہتا۔ میں پچھلے دو سال سے مسلسل یہاں کے انتہائی اوپر کے افراد سے ان مسائل پر گفتگو کر رہا ہوں ۔ اپنے خیالات قلم بند کر کے لوگوں کو دکھار ہاہوں ، اتنے طویل مضمون کی نقلیں تیار کر کے اہل علم رفقاء کے مطالعہ کے لیے بھیج رہا ہوں ۔ کیا ”زعَم“ میں مبتلا ہونے والے آدمی کا طرز عمل یہی ہوتا ہے۔ اگر میں جھوٹے زعم میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page