Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

مبتلا ہوتا تو یقیناً مجھے یہ کرنا چاہیے تھا کہ اپنا مضمون مرتب ہوتے ہی فوراً سے ان بہت سے پرچوں میں سے کسی ایک میں بھیج دیتا جو اس طرح کے مضامین کا گویا منھ کھولے ہوئے انتظار کر رہے ہیں۔ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے اس تصور سے گھن آتی ہے کہ میں مخالف پرچوں میں چھپوں اور جماعت کے خلاف اس قسم کی سطحی اشتہار بازی کروں جو بہت سے لوگ عرصہ سے کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے سامنے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں یہ معلوم کروں کہ اسلام کا صحیح تصور کیا ہے۔ اب چونکہ آپ نے امید دلائی ہے کہ آپ کچھ شرطوں کے ساتھ میرے خیالات پر تبصرہ کر سکتے ہیں، تو میں عرض کرتا ہوں کہ میں کسی بھی قسم کے تحفظ اور استثناء کے بغیر آپ کی ہر شرط ماننے کے لیے تیار ہوں۔ اس سلسلے میں آپ جو صورت بھی تجویز فرمائیں، میں اس کو بے چون و چرا تسلیم کرلوں گا۔ آپ یقین رکھیں کہ مجھے ہار جیت کا کوئی اندیشہ قطعاً امن دامن گیر نہیں ہے۔ میں اپنی جیت اس کو سمجھتا ہوں کہ مجھے حق معلوم ہو جائے، خواہ وہ میری بات ہو یا کسی اور کی بات۔ آخر میں یہ بھی عرض کردوں کہ میری اصل پیچیدگی کیا ہے۔ میری اصل پیچیدگی یہ ہے کہ آپ نے اپنی مختلف تحریروں اور تقریروں میں اسلامی نصب العین یا انبیاء کے مشن کا جو تصور دیا ہے (واضح ہو کہ مشن کا تصور، نہ کہ سیاست کو اسلام میں شامل کرنا) وہ مجھے کسی آیت یا حدیث میں نہیں ملتا۔ اس سلسلے میں اب تک جتنے استدلال سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب مجھے اصل بات کو ثابت کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ میں اسی اشکال کے سلسلے میں خاص طور پر آپ کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہوں، باقی امور جو میری تحریر میں آپ کو نظر آئے، وہ میرا اصل مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ اصل بات کو پورے مجموعہ میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش میں یہ تمام چیزیں زیر تحریر آگئی ہیں۔ آپ کو اختیار ہے کہ ان کے بارے میں کوئی جواب دیں یا نہ دیں۔ اگر آیات کا مفہوم متعین ہو گیا تو بقیہ مسائل آپ سے آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page