خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
حل ہو جائیں گے۔ خادم وحید الدین
لاہور، 25 اگست 1962 ء محترمی و مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ عنایت نامہ ملا ۔ اب یہ بحث بے کار ہے کہ آپ اپنی تحریر کے اصل محرکات جو بیان فرماتے ہیں ان میں اور خود اس تحریر کے بین السطور سے جھلکنے والے محرکات میں کیا فرق ہے۔ ممکن ہے کہ میں ہی غلط فہمی میں پڑ گیا ہوں ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس مضمون میں اپنے اصل خیالات کی ترجمانی بلا ارادہ غلط طریقے سے کر گئے ہوں ۔ بہر حال اپنا جو منشا اب آپ ظاہر کر رہے ہیں، کوئی وجہ نہیں کہ میں اسے غلط سمجھوں ۔ آپ براہ کرم اپنا مضمون پھر بھیج دیں اور اگر تکلیف فرما کر اس کے درمیان ہر ورق کے ساتھ ایک ایک سادہ ورق لگوا کر بھیجیں تو زیادہ بہتر ہے۔ میں ہر بات کا جواب اسی کے بالمقابل صفحہ پر مختصر نوٹ کر دوں گا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ میرے جوابات سے آپ کو اطمینان ہو جائے ۔ آپ اس کے بعد بھی سمجھنے کا حق رکھتے ہیں کہ میں دین کو سمجھنے میں غلطی کر گیا ہوں ۔ لیکن اپنی حد تک میں آپ کو سمجھانے کی کوشش ضرور کروں گا ۔ والسلام خاکسار۔ ابوالاعلیٰ
اس کے بعد میں نے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کو لکھا کہ : " آپ کے اس خط کو پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی ۔ یہ خط واقعی آپ کے شایان شان ہے اور میری اس توقع کے مطابق ہے جو میں نے آپ کے بارے میں قائم کر رکھی تھی ۔ " مزید میں نے دریافت کیا کہ اپنے سوالات میں آپ کے پاس کس شکل میں بھیجوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader