Urdu book · تعبیر کی غلطی

تمہید

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ جب کسی نظریہ پر آدمی کو اتنی لمبی مدت گزر جائے تو اس کے بعد اس سے لوٹنا اس کے لیے ممکن نہیں رہتا، وہ اپنے خیالات سے اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ اس کے باہر وہ کسی صداقت کا تصور نہیں کر سکتا۔ جماعت بھی اب تقریباً اسی مرحلے میں پہنچ گئی ہے۔ اب اس کی حیثیت ’’تحریک‘‘ سے زیادہ ایک ’’روایت‘‘ کی ہو چکی ہے جس پر ایمان رکھنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر اوقات دلائل کے میدان میں لاجواب ہونے کے باوجود آدمی اپنی روایتی ڈگر پر اس طرح چلتا رہتا ہے گویا اس سے بڑی صداقت دنیا میں اور کوئی نہیں پھر اسی کے ساتھ طویل مدت کے مسلسل عمل کے بعد اب اس نے ماحول کے اندر اپنا مقام پیدا کر لیا ہے، اس کا ایک پھیلا ہوا حلقہ ہے، جس سے بہت سے لوگ طرح طرح سے بندھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایک سبب ہے جو بہت سے افراد کے لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر کوئی نیا فیصلہ کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ یہاں میں کمیونزم کی مثال دوں گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کمیونزم کا فلسفہ دلیل کے میدان میں مکمل طور پر رد کیا جا چکا ہے۔ اس کے خلاف اتنی زبردست تنقیدیں کی گئی ہیں کہ اب اس کے لیے دلیل کی حد تک کھڑے رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ یوگوسلاویہ کی کمیونسٹ پارٹی کے سابق صدر اور وائس پریذیڈنٹ میلووان جیلاس (Milovan Djilas) جو عالمی کمیونزم کی ایک مشہور شخصیت مانے جاتے رہے ہیں، 1956ء میں جب ان کی کتاب نیا طبقہ (New Class) لندن سے شائع ہوئی تو ساری دنیا میں ایک ہلچل مچ گئی۔ اسی زمانہ میں ریڈرز ڈائجسٹ میں اس پر ایک تعارفی مضمون چھپا تھا، جس کا عنوان تھا: The Book That is Shaking The Communist World یعنی وہ کتاب جس نے کمیونسٹ دنیا کو ہلا دیا ہے۔ مگر اس کے باوجود کمیونزم کا نظریہ آج بھی بدستور زندہ ہے بلکہ برابر بڑھ رہا ہے۔ جب انسانی فطرت کا حال یہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ میں اپنے بارے میں اس سے مختلف ایک امید قائم کرلوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page