اسلامی مشن کی تعبیر
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
نے لکھی ہے وہ ”نتائج“ سے متعلق ہے۔ یعنی میرے خیال میں دین کی تعبیر میں جو غلطی ہوئی ہے، اس نے عملاً وہ نتائج بھی پیدا کر دیے ہیں جو اس طرح کے ذہن سے متوقع ہو سکتے تھے۔ مگر یہ نتائج میرے اشکال کی اصل بنیاد نہیں ہیں۔ کیوں کہ خواہ ان کو بطور واقعہ مان بھی لیا جائے پھر بھی ان کی اہمیت اسی وقت ہے جب کہ ذہن کا غلط ہونا ثابت ہو جائے۔ ورنہ بصورت دیگر ان کے دوسرے اسباب ہو سکتے ہیں، اور دوسرے طریقہ سے انھیں دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ نیز ”نتائج“ سے متعلق یہ تحریر میں نے زیادہ تر ہندوستان کے افراد کے پیش نظر مرتب کی ہے، ان وجوہ سے میں بقیہ تحریر کو آپ کی خدمت میں بھیجنے کی ضرورت نہیں سمجھتا، اس وقت آپ نظریاتی پہلو سے میرے اشکال کا جواب دے دیں۔ اس کے بعد جیسی ضرورت ہوگی اس کے مطابق کر لیا جائے گا۔ یہ میرا خیال ہے تاہم اگر آپ کا اصرار ہوگا تو مجھے بقیہ تحریر بھیجنے میں بھی کوئی عذر نہیں ہے۔ خادم وحید الدین
اپنی تحریر کا ایک حصہ میں نے آخر ستمبر 1962ء میں اور دوسرا حصہ آخر نومبر 1962ء میں مولانا کی خدمت میں روانہ کیا تھا۔ اس طرح مہینوں کی مدت گزر گئی اور اس درمیان میں کئی بار یاد دہانی کے خطوط لکھے۔ آخر طویل انتظار کے بعد 26 مارچ 1963ء کی ڈاک سے مجھے ایک پیکٹ ملا۔ اوپر میرا پتہ لکھا ہوا تھا، اور نیچے حسب ذیل سطریں درج تھیں۔ المرسل: ملک غلام علی معان خصوصی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
اچھرہ، لاہور پیکٹ کی شکل بتا رہی تھی کہ یہ وہی مضمون ہے جس کا مجھے پچھلے چھ مہینے سے شدید انتظار تھا مگر جب اس کو کھولا تو معلوم ہوا کہ بعینہ میرا مضمون مجھے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ درمیان میں لگے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader