Urdu book · تعبیر کی غلطی

اسلامی مشن کی تعبیر

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

کے متعلق مکہ میں آپ نے شمس پیر زادہ صاحب کی زبانی وعدہ فرمایا تھا کہ ”میں ان کا جواب دوں گا۔“ مگر اس وعدہ کے باوجود آپ نے جولائی میں ان کو بلا جواب واپس کر دیا۔ اس کے بعد مزید خط و کتابت ہوئی جس کے نتیجہ میں آپ نے دوبارہ میرے مضامین طلب فرمائے۔ اور اپنے خط مورخہ 25 اگست 1962 ء میں یہ وعدہ فرمایا کہ ”اپنی حد تک میں آپ کو سمجھانے کی کوشش ضرور کروں گا۔“ چنانچہ میں نے دوبارہ یہ مضامین آپ کی خدمت میں بھیج دیے۔ اب میں پوری طرح یہ امید کیے ہوئے تھا کہ آپ ضرور میرے مضامین پر تبصرہ فرمائیں گے۔ اور خوش تھا کہ آپ کے جواب کے بعد متعلقہ مسئلہ پر زیادہ بہتر طریقہ پر غور کرنے کا موقع ملے گا۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو براہِ راست آپ کی ذات سے متعلق ہے۔ اس لیے آپ جتنا بہتر طور پر اس کی وضاحت کر سکتے ہیں کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔ اس دوران میں خطوط کے تبادلے ہوتے رہے جن میں بار بار آپ کی طرف سے مذکورہ بالا وعدہ دہرایا گیا۔ آپ کے معاون خصوصی جناب غلام علی صاحب نے اپنے خط مورخہ 12 ستمبر 1962 ء میں لکھا ”مولانا آپ کو مطمئن کرنے کی خاطر جو کچھ بھی کوشش کر سکتے ہیں اس سے دریغ نہیں کریں گے “ اس کے بعد آپ کے اپنے دستخط سے آپ کا خط مورخہ 8 دسمبر 1962 ء ملاجس میں تحریر تھا کہ ”آپ کے مضامین پڑھ کرا اپنے خیالات سے آپ کو آگاہ کروں گا۔“ اس کے بعد جناب غلام علی صاحب کا خط مورخہ 17 جنوری 1963 ء ملاجس میں انھوں نے لکھا تھا” مولانا آپ کے مضامین پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔“ ان تمام وعدوں کے باوجود میرے مضامین کی یہ خاموش واپسی حیرت انگیز ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کی کیا توجیہ کروں۔ مضمون واپس ملنے کے فوراً بعد 26 مارچ کو میں نے ایک خط آپ کے نام روانہ کیا تھا۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اب دوبارہ لکھ رہا ہوں ۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ اس حادثہ کی وجہ کیا ہے۔ اگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے یہ مضامین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page