تمہید
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر یہ جانتے ہوئے میں نے اپنی کتاب شائع کرنے کا فیصلہ کیوں کیا اس کے متعدد اسباب ہیں: 1۔ ایک تو یہ کہ جماعت سے پندرہ سال متعلق رہنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کا میرے اوپر یہ حق ہے کہ جماعت کے لیے میرے پاس نصیحت کی جو بہترین بات ہے، اس کو اس کی خدمت میں پیش کروں۔ چوں کہ میں نے محسوس کیا کہ اندر رہتے ہوئے میں ایسا نہیں کر سکتا، اس لیے باہر آ کر مجھے اپنا یہ فرض ادا کرنا پڑا۔ 2۔ کوئی فکر خواہ ذہنوں میں کتنی ہی جڑ پکڑ لے مگر وہ سارے کے سارے افراد کو بدل نہیں دیتا، پھر بھی کچھ ایسے دھڑکتے ہوئے دل باقی رہتے ہیں جن کے سامنے حق آئے تو وہ اس پر فی الواقع کھلے دل سے غور کر سکیں، اور اس کو بے تکلف قبول کر لیں ۔ ایسے لوگ ہر دوسرے حلقۂ فکر کی طرح جماعت کے اندر بھی موجود ہیں اور یہی لوگ میری امیدوں کا مرکز ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں بندگان خدا کے لیے میں نے یہ مشکل ترین کام کرنے کی زحمت برداشت کی ہے۔ 3۔ جماعت کے مخصوص حلقہ کے گردو پیش بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے جماعت کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے، وہ اس سے دلچسپی رکھتے ہیں، اس کے ہمدرد اور بہی خواہ ہیں ، مگر اس کے باوجو د ان کے دل میں ایک گرہ پڑی ہوئی ہے جو ابھی تک کھل نہ سکی۔ وہ ساری دلچسپی کے با وجود اس کو مکمل طور پر اپنانے کی آمادگی اپنے اندر نہیں پاتے۔ وہ اپنے اندر ایک موہوم قسم کی کش مکش لیے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے میری کتاب ، ان شاء اللہ ، ان کے سوال کا جواب ثابت ہوگی، اور وہ زیادہ شرح صدر کے ساتھ اپنے آئندہ رویہ کا فیصلہ کر سکیں گے۔ 4۔ مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے ایک مرتبہ جماعت اسلامی کے بارے میں ایک استفسار کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا: ”اگر چہ کوئی اعتراض شرعی لحاظ سے بظاہر نہ وارد کیا جا سکے لیکن میرا دل اس تحریک کو قبول نہیں کرتا۔“ (سیرت اشرف ، صفحہ 546) مولانا تھانوی کے یہ الفاظ ہندو پاک کے تقریباً ان تمام علمائے اسلام کی ترجمانی کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader