اسلامی مشن کی تعبیر
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے بالکل آمادہ نہیں تھی کہ کچھ لوگ جو دین کے نام پر کام کر رہے ہیں ان پر تنقید کی جائے۔ میں نے اپنے متعدد ساتھیوں سے کہا تھا کہ مجھے بہت خوشی ہوگی اگر مولانا مودودی کا جواب میرے ذہن کو بدل دے اور مجھے اس خروشہ میں پڑنا نہ ہو۔ حتی کہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ مولانا مودودی نے اگر باقاعدہ میری پوری تحریر کا جواب نہیں دیا اور صرف اتنا ہی کر دیا کہ تحریر کے کسی حصہ کو لے کر اسے غلط ثابت کر دیا تو اس سے کم از کم یہ فائدہ ہوگا کہ میں متزلزل ہو جاؤں گا۔ کیوں کہ ایک جزء کی غلطی اگر سامنے آجاتی ہے تو یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے بقیہ اجزاء بھی غلط ہوں۔ اور اس طرح مجھے اپنی تحریر کو شائع نہ کرنے کے لیے معقول عذر مل جائے گا۔ مگر افسوس کہ یہ امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔ اور اب میں انھیں جذبات کے ساتھ اس تحریر کو اشاعت کے لیے دے رہا ہوں جیسے کسی نازک معاملہ کا ایک گواہ ، معاملہ کی نزاکت کی وجہ سے بالکل نہ چاہتا ہو کہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنی زبان کھولے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو اور اس کو عدالت کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا جائے۔ آج یہ تحریر میری خواہش کے خلاف شائع ہو رہی ہے۔ مگر شاید میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اب اس کے شائع ہونے کی ذمہ داری میرے اوپر نہیں بلکہ مولانا مودودی کے اوپر ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader