ضمیمہ
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
ضمیمہ مولانامودودی کے خط مورخہ 21 مارچ 1963 ء سے یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ اب وہ میرا جواب نہیں دیں گے۔ کیوں کہ اپنے اس خط میں انھوں نے صاف طور پر لکھ دیا تھا: ”میں آپ سے اس سلسلے میں مستقل معذرت چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ مزید مراسلت میں اپنا اور میرا وقت ضائع نہیں فرمائیں گے“۔ اس لیے اب میرے لیے آخری چارہ کار یہی تھا کہ اپنی تحریر کتابی شکل میں مرتب کرکے اسے اشاعت کے لیے دے دوں۔ مگر اسی کے ساتھ میں نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ اپنے غمگین احساسات مولانا تک پہنچا دوں۔ چنانچہ میں نے مولانا کے نام اپنا خط مورخہ 20 اپریل لکھ کر روانہ کر دیا۔ میں سمجھتا تھا کہ اس خط کا جواب دے کر مولانا اپنا وقت ”ضائع“ کرنا پسند نہیں فرمائیں گے۔ مگر دو مہینے بعد 21 جون کی ڈاک سے مولانامودودی کا ایک خط ملا جس میں ایک مزید بات کا انکشاف تھا۔ چوں کہ اس وقت تک پلیٹیں جمائی جا چکی تھیں۔ 1 اس لیے یہ خط اصل ترتیب میں شامل نہ ہوسکا۔ مگر اس خط کے بغیر یہ کہانی مکمل نہیں ہوسکتی اس لیے اس کو الگ ضمیمہ کے تحت نقل کیا جاتا ہے۔ لاہور، 12 جون 1963 ء محترمی و مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا عنایت نامہ میرے سفرج کے زمانے میں آیا تھا۔ جواب میری غیر موجودگی کی وجہ سے بروقت نہ دیا جاسکا۔ میں طبعاً بحث و نزاع سے دلچسپی نہیں رکھتا اور ہمیشہ اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش یہ بات اس کتاب کے پہلے ایڈیشن 1963 کے وقت کی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader