Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتا ہوں ۔ آپ کے مضمون ” تعبیر کی غلطی “ کو دیکھ کر میں نے محسوس کیا تھا کہ مجھ سے آپ کا اختلاف محض علمی حد تک نہیں رہا ہے بلکہ آپ کے اندر میرے خلاف ایک ضد اور کد کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے ۔ میری سیدھی باتوں میں سے بھی آپ نے ٹیڑھا نکالنے میں کسر اٹھا نہیں رکھی ہے ۔ اور مجھ پر جگہ جگہ سخت چوٹیں بھی کی ہیں۔ ان کے علاوہ میں نے ایک سخت ادعا کی کیفیت بھی آپ کے اس تحریر میں محسوس کی ، اور یہ اندازہ ہوا کہ آپ بجز ” اعتراف خطا “ کے اور کسی چیز پر مطمئن نہیں ہو سکتے ، کیوں کہ آپ یہ قطعی رائے قائم کر چکے ہیں کہ جو کچھ آپ نے خود سمجھا ہے وہ بالکل صحیح ہے ۔ اور اب لازماً میرا ہی فہم غلط ہے ، لہٰذا میرے لیے کوئی راہ اس کے سوا باقی نہیں ہے کہ آپ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرلوں ۔ یہ ساری باتیں آپ کے اس مضمون میں اس قدر واضح طور پر موجود تھیں کہ کوئی بلید الذہن آدمی بھی ان کو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ اسی وجہ سے میں نے آپ کے ساتھ بحث کرنے سے اپنی معذوری کا اظہار کر دیا تھا ۔ کیوں کہ اس صورت حال میں اگر کوئی شخص آپ کو سمجھا بھی سکتا ہے تو وہ میرے سوا کوئی اور ہی ہونا چاہیے ۔ میرا آپ سے بحث کرنا نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا ۔ اس کے بعد جب آپ نے بار بار اصرار کیا تو بادل ناخواستہ میں اس پر راضی ہو گیا تھا کہ آپ کے چھیڑے ہوئے اصل سوالات کا جواب دوں ۔ لیکن اس دوران میں بعض ایسے اصحاب نے جو ہندوستان میں آپ سے بحث کر چکے ہیں ، مجھے مشورہ دیا کہ میں اس بحث میں اپنا وقت صرف نہ کروں اس سلسلے میں انھوں نے اپنے تجربات بیان کیے ان کا ذکر کرنا تو میں مناسب نہیں سمجھتا کیوں کہ اس سے خواہ مخواہ ایک نئی بحث کا دروازہ کھلتا ہے ۔ بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ ان کے بیانات سے مجھے اپنے پچھلے موقف کے صحیح ہونے کا اطمینان حاصل ہو گیا ۔ آپ اس کو میری طرف سے اپنے اوپر ایک ظلم قرار دینا چاہیں تو آپ کو اس کا اختیار ہے ، مگر میرا احساس دیانتاً یہی ہے کہ آپ کو سمجھانے کی کوشش کرنے کے لیے سب سے زیادہ غیر موزوں شخص اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ میں ہی ہوں ۔ اس احساس کی بنا پر جب میں اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page