ضمیمہ
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
معذوری کا اظہار کر رہا ہوں تو آپ کا مجھ پر بڑا کرم ہوگا کہ میری اس معذرت کو قبول فرمالیں۔ میرا مخلصانہ مشورہ اب بھی یہی ہے کہ اگر آپ نے دین کے غائر اور وسیع مطالعہ سے اس کا ایک تصور حاصل کیا ہے تو مثبت طور پر اسے پیش کیجیے اور اس کی طرف دعوت دیجیے۔ آخر یہ کیا ضروری ہے کہ آپ اپنی دعوت کا آغاز کسی دوسرے شخص کی تردید و تغلیط ہی سے کریں۔ تاہم اگر آپ اسی طرح اپنی دعوت کا آغاز ضروری سمجھتے ہیں تو مجھے آپ کو اس سے روکنے کا حق نہیں۔ میرے کرم فرماؤں کی فہرست پہلے ہی خاصی طویل ہے ۔ اس میں آپ کا اضافہ ہو جانے سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ خاکسار ابو الاعلیٰ
اس خط کے ساتھ مولانا مودودی سے میری مراجعت کا وہ سلسلہ ختم ہوتا ہے جس کا آغاز پچھلے سال حج کے موقع پر شمس پیرزادہ صاحب کی معرفت وعدۂ جواب سے ہوا تھا۔ اور خاتمہ دوسرے سال حج سے واپسی کے بعد انکار جواب پر ہوا ہے۔ مولانا نے زبانی اور تحریری وعدوں کے باوجود اپنے افکار کے بارے میں میری تنقیدوں کا جواب کیوں نہیں دیا۔ اس کے جواب اس درمیان میں انھوں نے اپنے خطوط میں بتائے ہیں وہ حسب ذیل ہیں : 1۔ آپ کی تحریر میں بڑے مفصل اعتراضات کیے گئے ہیں اور میرے لیے اپنی موجودہ مصروفیتوں کے ساتھ اسے پڑھنا اور پھر اس کا مفصل جواب دینا سخت مشکل ہے۔ 2۔ آپ کا مطالعہ آپ کو بالکل ہی اس سمت کے خلاف سمت میں لے گیا ہے جس سمت میں میرا آج تک کا مطالعہ مجھے لے گیا ہے ۔ اس لیے اب یہ بات فضول ہے کہ میں اور آپ کسی بحث میں الجھیں۔ 3۔ آپ کا مطالعہ ناقص ہے اور اس پر غضب یہ ہے کہ آپ اپنے کو ایک بہت اونچے مقام پر فائز سمجھ رہے ہیں ۔ اب میری مشکل یہ ہے کہ علم کی کمی کے ساتھ جو شخص اس طرح کے زعم میں مبتلا ہو اس سے مخاطب ہونے کی مجھے عادت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader