Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

4۔ آپ اس مقام سے گزر چکے ہیں جہاں آپ کو سمجھانے کی کوشش مفید ہوسکتی تھی، اس لیے آپ کا جواب تو نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ اگر آپ نے اپنی کتاب شائع کی تو خلق خدا کو آپ کی پیدا کردہ وہ غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے آپ کے دلائل کا رد کیا جائے گا۔ 5۔ آپ کی تحریر مناظرانہ قسم کی ہے اس لیے آپ کو مجھ سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ میں آپ کے ساتھ سوال وجواب میں الجھ کر آپ سے مناظرہ بازی کروں گا۔ 6۔ اگر آپ اپنے مقام بلند سے نیچے اتریں اور یہ بھی محسوس کریں کہ جس آدمی پر آپ نے گرفت کی ہے وہ طفل مکتب نہیں ہے تب یہ ممکن ہے کہ آپ سے گفتگو کی جائے۔ 7۔ آپ اتنے بلند اور بعید مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ اب آپ سے گفتگو غیر ممکن والا حاصل ہے۔ سر دست میرے سامنے اپنی محدود قوت و فراغت کا بہتر مصرف موجود ہے اس لیے آپ سے تحریری مناظرے میں الجھنا میں اپنے لیے ممکن اور موزوں نہیں سمجھتا۔ 9۔ ہندوستان کے بعض اصحاب جن سے آپ کی بحث ہو چکی ہے، انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اس بحث میں اپنا وقت صرف نہ کروں۔ 10۔ اگر آپ اپنی کتاب شائع کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے شائع کریں۔ میرے کرم فرماؤں کی فہرست پہلے ہی خاصی طویل ہے۔ اس میں آپ کا اضافہ ہو جانے سے کوئی بڑا فرق نہ پڑے گا۔ میری باتوں کا جواب نہ دینے کے یہ وجوہ کس حد تک قابل لحاظ ہیں، اس کا فیصلہ ناظرین خود فرما سکتے ہیں ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں بہر حال یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مذکورہ بالا اسباب میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے کہ اس کی بنا پر مولانا میرے سوالات کا جواب دینے سے مکمل انکار کر دیتے— ظاہر ہے کہ کوئی اعتراض اگر ’’مفصل‘‘ ہے تو اپنی معذوری کی بنا پر آدمی یہ تو کر سکتا ہے کہ وہ اس کا مختصر جواب دے۔ مگر کسی اعتراض کا مفصل ہونا اس بات کی کافی وجہ نہیں ہے کہ وہ جواب دینے کے لیے مانع بن جائے۔ اسی طرح کوئی فکر اگر آپ کی فکر سے بالکل مختلف ہو تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس کی مکمل تردید کریں ۔ نہ یہ کہ آپ اس کا جواب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page